خطبات محمود (جلد 3) — Page 72
خطبات محمود جلد سوم جائے کہ شریعت کا حکم ہے کہ لڑکی دیکھنا جائز ہے تو اس سے برا مناتے ہیں مگر خود بلا کر تمام محلہ کی عورتیں دکھا دیتے ہیں۔ایک شخص کو میں نے کہا لڑکے کے لئے لڑکی کو دیکھنا جائز ہے۔اس نے کہا یہ نکاح تو نہ ہوا چکلہ ہو گیا اس بات کو تو کوئی شریف انسان سننا بھی پسند نہیں کرے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ جس بات کو کوئی شریف سنتا بھی پسند نہیں کرتا اس کے کرنے کی اجازت دینے والے کو کیا سمجھا جائے گا۔تو شریعت کے احکام کی اس طرح بے قدری کی جاتی ہے۔چونکہ نکاح کا معاملہ نہایت اہم ہے اس لئے اس کے متعلق شریعت کے احکام کو خاص طور پر مد نظر رکھنا چاہئے تاکہ خدا تعالٰی اچھے اور نیک نتائج پیدا کرے اور مشکلات، مصائب اور برے نتائج سے بچائے۔اس لئے رسول کریم ﷺ نے اس کے لئے دعائیں کیں اور جو آیات اس موقع کے لئے تجویز کیں ان میں بھی خدا تعالٰی کے احکام کی فرمانبرداری کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔جیسا کہ آتا ہے وَمَن يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا - که اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کرو۔اب جو لوگ خدا اور رسول کے احکام کی اطاعت سے نکل کر طرح طرح کی رسوم میں پھنس گئے ہیں وہ کس قدر برا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔بیاہ شادیوں میں اس قدر فضول خرچی کرتے ہیں کہ نہ صرف خود بلکہ جن کی شادی کی جاتی ہے وہ تمام عمر کے لئے قرض کے نیچے دب جاتے ہیں اور اکثر لڑکے لڑکی میں نا اتفاقی ہوتی ہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس معاملہ میں خاص طور پر احکام شرعی کی پابندی کرے کہ ان کی شادیاں اعلیٰ اور اچھے نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوں اور وہ قباحتیں جن سے دوسرے لوگوں کو تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں ان سے بچیں۔(الفضل ۱۸ نومبر ۱۹۲۰ء صفحه ۵) ے فریقین کا تعین نہیں ہو سکا۔که بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارة ه ابن ماجه كتاب النكاح باب النظر الى المراة اذا اراد ان يتزوجها ه الاحزاب : ۷۳