خطبات محمود (جلد 3) — Page 71
خطبات محمود جلد سوم ہندوستان میں یہ مرض بہت زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا تعلق اہل ہنود سے ہے اور اہل ہنود میں بیاہ شادی کے متعلق ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں کہ ان کی وجہ سے شادی تماشہ بن جاتی ہے اور وہ اس قدر پختگی سے ان میں جڑ پکڑ چکی ہیں کہ بغیر اس احساس کے کہ ان کا کوئی فائدہ ہے یا نہیں، ان کی ضرورت ہے یا نہیں ان پر عمل کیا جاتا ہے۔مثلاً روانگی کے وقت لڑکی خواہ کتنی ہی خوش ہو رونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔پھر شادی کے موقع کے لئے عجیب و غریب قسم کے کپڑے بنائے جاتے ہیں۔پھر یہ کہ جب لڑکے والے آئیں تو ایک خاص حد پر ان کو ملنا چاہئے گویا اس قسم کی باتیں خدا کے قانون ہیں اور خدا کے قانون پر بھی کبھی تغیر واقع ہو جاتا ہے۔مثلاً کبھی بارش ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔مگر ان رسموں میں کبھی فرق نہیں آتا۔اور ان پر اتنا زور دیا جاتا ہے کہ نماز چھوڑنی پڑے تو حرج نہیں لیکن ان میں سرمو فرق نہیں آنا چاہئے اور اگر کوئی ایک رسم بھی چھوٹ جائے تو غضب ہو جائے۔یہاں تک پابندی کی جاتی ہے کہ شریف گھرانے کی عورتیں بھی شادی کی رسومات کی ادائیگی کے وقت فحش کلمات کہنے سے باز نہیں رہتیں گویا ان دنوں وہ فعل ان کے لئے جائز ہو جاتا ہے جو دوسرے دنوں میں نا جائز ہوتا ہے۔دوسرے ایام میں اگر اس قسم کے الفاظ کسی کے منہ سے نکلیں تو اسے نہ معلوم کیا کچھ کہیں لیکن شادی کے وقت ان کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح دوسرے دنوں میں اگر کسی کی نظر چلمن کی طرف بھی پڑ جائے تو اسے اپنی بہت بڑی ہتک اور بے عزتی سمجھتے ہیں لیکن جب دولہا آئے اور خواہ وہ غیر ہی کیوں نہ ہو محلہ کی عورتیں اس سے پردہ کرنا ضروری نہیں سمجھتیں اور کہتی ہیں اس سے کیا پردہ ہے۔اور پھر صرف یہی نہیں کہ پردہ نہیں کرتیں بلکہ اسے محول اور ہنسی بھی کرتی ہیں۔غرض بہت سی اس قسم کی باتیں ہیں کہ شادی کے معاملہ میں شریعت کی خلاف ورزی کی جاتی ہے حالانکہ یہی ایسا معاملہ ہے کہ اس کے متعلق بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ شریعت کی پابندی کرنی چاہئے تھی۔کیونکہ اس میں اپنا کچھ اختیار نہیں ہو تا ایک غیر مرد کو غیر عورت کے ساتھ ملا کر کہہ دیا جاتا ہے کہ اولاد پیدا کرو اور اپنا نام قائم رکھو۔یہ ایسا مشکل اور اہم معاملہ ہے۔کہ اس کا اثر نہ صرف دنیا میں ہی بہت دور تک جاتا ہے بلکہ آخرت تک پہنچتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے متعلق استخارہ کا حکم دیا ہے اور اگر ضرورت ہو تو لڑکی کو دکھا دینے کا بھی ارشاد فرمایا ہے سے مگر مسلمانوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اگر کسی کو بتایا