خطبات محمود (جلد 3) — Page 70
خطبات محمود ۲۰ نکاح سے متعلق شرعی احکام کی پابندی فرموده ۱۱ نومبر ۱۹۲۰ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا :- نکاح کے معاملہ میں لوگ کئی وجوہات سے احکام شریعت کو توڑتے ہیں اور ہر زمانہ اور ہر ملک میں یہ معاملہ اس بارے میں نمایاں رہا ہے۔اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں نکاح کے معاملہ میں جتنی کمزوری احمدی دکھلاتے ہیں اور اتنی کسی معاملہ میں نہیں دکھلاتے۔یعنی جتنی کمزوری احمدی غیر احمدیوں میں لڑکیاں دینے میں دکھاتے ہیں اور کسی امر میں نہیں دکھلاتے لیکن اگر احمدی اور غیر احمدی کے سوال کو جانے دیا جائے پھر بھی اس معاملہ میں ان کی بہت سی کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں کہیں جنگ و ناموس کا عذر ہوتا ہے، کہیں قومیت اور ذات کا خیال ہوتا ہے، کہیں دولت مندی اور خوشحالی کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔غرض کئی ایک باتیں ہیں جو اس معاملہ میں پیش آتی ہیں اور پھر اس میں کمزوری کا موجب بنتی ہیں۔دوسرے معاملات کی نسبت اس معاملہ میں کیوں زیادہ لوگ اپنی کمزوری کا اظہار کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو قریباً ہر ایک کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ہر ایک کو پیش آتا ہے دوسرے معاملات ایسے ہیں کہ کسی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور کسی کے ساتھ نہیں۔پس ایک وجہ اور بہت بڑی وجہ نکاح کے معاملہ میں احکام شریعت کی خلاف ورزی کرنے کی یہ ہے کہ یہ معاملہ ہر ایک کو پیش آتا ہے سوائے ایک قلیل حصہ کے لوگ اس میں کو تاہی کرتے ہیں۔جلد سوم