خطبات محمود (جلد 3) — Page 670
خطبات محمود ۶۷۰ جلد سوم بے تاب ہو کر کہا میری خدیجہ میری خدیجہ اتنے میں وہ آپ کے سامنے آگئیں تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ حضرت خدیجہ کی بہن ہیں۔تب آپ نے فرمایا اے میرے اللہ مجھے کیا ہو گیا یہ تو فلاں عورت ہے شہ گویا حضرت خدیجہ کی وفات سے آٹھ سال بعد بھی ان کی آواز سے ملتی جلتی آواز سن کر ان کی خوبیوں کی یاد تازہ ہو گئی۔یہ وہی چیز تھی جو حضرت خدیجہ کی ابتدائی قربانیوں کے نتیجہ میں آپ کے دل میں پیدا ہوئی۔پس شادیاں دین تک رکھنی چاہئیں۔پھر یہی نہیں کہ صرف ایک فریق اس کا لحاظ رکھے بلکہ فریقین کو ایسا کرنا چاہئے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کوئی شخص شادی کرنا چاہتا ہے حسن کی خاطر، کوئی شادی کرنا چاہتا ہے عزت و جاہ کی خاطر، کوئی شادی کرنا چاہتا ہے بلند و پست کی خاطر اور کوئی شادی چاہتا ہے جانداروں کی خاطر لیکن علیكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ له اے میرے ماننے والے! تو کسی دیندار عورت کی تلاش کر۔تیرے ہاتھ مٹی سے بھریں - تربت یداک پیار کے الفاظ ہیں۔ہمارے ملک میں بھی عورتیں اپنے بہن بھائیوں سے مذاق کی کوئی بات کریں۔تو کہتی ہیں کالا منہ۔اب یہ کالا منہ بدبخت کے معنوں میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ پیار کی وجہ سے بولا جاتا ہے۔اسی طرح عربوں میں بھی تربَتْ يَدَاكَ پیار اور محبت کے الفاظ تھے۔رسول کریم ﷺ نے بھی انہیں معنوں میں یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔کہ تیرے ہاتھ مٹی والے ہوں تو دین کی خاطر شادی کر۔مگر ایسا کرنا فریقین کے لئے ضروری ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں یعنی غرض تو ان کی حصول جاہ ہوتی ہے یعنی کہتے یہ ہیں کہ لڑکا دیندار ہے یا لڑکی دیندار ہے حالانکہ کیا ایک غریب لڑکا یا ایک غریب لڑکی دیندار نہیں ہو سکتے حضرت خدیجہ کا واقعہ دیکھ لو یہاں ایک غریب لڑکے نے ایک مالدار عورت سے شادی کی خواہش نہیں کی بلکہ ایک مالدار عورت نے ایک غریب لڑکے سے شادی کی خواہش کی ہے اگر غریب امیر سے شادی کی خواہش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ تقویٰ اور دین کی خاطر ایسا کر رہا ہے تو وہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہتا ہے لیکن امیر کا غریب کو چنتا نیکی ہے۔پس شادیوں کے وقت ان امور کو مد نظر رکھنا بڑی نیکی ہے اور یقیناً موجب برکت ہے اور پھر اگر اسے قائم رکھا جائے تو اس سے نیک نتائج نکلتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے نیکی کا نتیجہ نیک نکلتا ہے بشرطیکہ اسے ہمیشہ قائم رکھا جائے۔کے آج مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ ایک طرح ایک ہی خاندان میں تھوڑے ہی عرصہ میں