خطبات محمود (جلد 3) — Page 666
خطبات محمود 444 جلد موم ڈال کر باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں لڑکا بڑا متقی ہے بڑا مخلص ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہماری لڑکی کا رشتہ اس سے ہو جائے۔حالانکہ متقی اور دیندار لڑکے غریب بھی ہو سکتے ہیں دیندار اور متقی ہونے میں امیر کی کیا شرط ہے۔یہ طبقہ اپنے حالات کے لحاظ سے بہت ہی قابل افسوس ہوتا ہے اور مجھے تو ان لوگوں سے خاص طور پر تنفر ہوتا ہے کہ وہ دین کو دنیوی اغراض کے لئے ڈھال بناتے ہیں۔اگر لڑکی والے کہیں کہ وہ اپنی لڑکی کی کسی مالدار لڑکے سے شادی کرنا چاہتے ہیں یا لڑکے والے کہیں کہ وہ اپنے گھر کوئی مالدار بہو لانا چاہتے ہیں تو چاہے اسے کوئی شخص کتنا ہی معیوب قرار دے ہم اسے دین کی فروخت نہیں سمجھیں گے اگر چہ یہ اچھی خواہش نہیں ہوگی کہ کوئی کہے میں اپنی لڑکی کی شادی کسی مالدار لڑکے سے کرنا چاہتا ہوں یا میں اپنے گھر مالدار بھولانا چاہتا ہوں کم از کم اس نے اپنا دین تو نہیں بیچا سیدھے سادے طور پر اپنی خواہش کو ظاہر کر دیا۔لیکن جب مال کو تقویٰ کے پردہ میں لینے کی کوشش کی جائے تو یہ نہایت افسوس ناک بات ہوتی ہے۔پھر ان سے بھی گھٹیا قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی ظاہراً حقارت کرتے ہیں یعنی ایک شخص جو اپنی زندگی دین کی خدمت کے لئے لگا دیتا ہے اسے اپنی لڑکی دینا پسند نہیں کرتے وہ اس سے گریز کرتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک جس شخص کی جیب میں روپے ہوں وہ تو قیمتی وجود ہے لیکن اگر اس کے دل میں نور ہو تو وہ قیمتی نہیں۔آخر جو شخص اپنی زندگی وقف کرتا ہے اور اسے دین کے لئے لگا دیتا ہے اور دوسرا شخص خدا تعالیٰ سے دور ہوتا ہے یا اس قدر قریب نہیں ہوتا جتنا ایک زندگی وقف کرنے والا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مومن خدا کا قرب حاصل کرنے والے کو تو حقارت کی نگاہ سے دیکھے اور اس سے نسبتا خدا تعالیٰ سے دور شخص کو عظمت اور عزت کی نگاہ سے دیکھے۔رسول کریم ﷺ کو دیکھ لو آپ نے ابھی نبوت کا دعوئی بھی نہیں کیا تھا کہ حضرت خدیجہ نے جو ایک مالدار عورت تھیں آپ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔حضرت خدیجہ کے پاس دولت تھی اور رسول کریم اے غریب تھے لیکن آپ نے حضرت خدیجہ کے مالدار ہونے کی وجہ سے ان سے شادی کی خواہش کا اظہار نہیں کیا بلکہ خود حضرت خدیجہ نے رسول کریم سے شادی کی خواہش کی۔عربوں میں ہمارے ملک کی طرح اتنی شرم نہیں تھی کہ ان کی عورتیں منہ سے بولیس ہی نہیں مگر پھر بھی عرب عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ شرم کرتی ہیں۔