خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 663 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 663

خطبات محمود جلد سوم نہیں۔عام حالت ایسی تھی کہ بعض اوقات کسی شاگرد کے ہاں سے کھانا طلب فرما لیتے لیکن اس کے باوجود ان کے پاس وہ چیز تھی جس کی اللہ تعالٰی کے ہاں قدر تھی یہاں تک کہ بعض دولت مند عورتیں نہایت قیمتی عطر کثرت سے ان کے پاؤں پر ملتیں اور اپنے سر کے بالوں سے ان کے پاؤں کو خشک کرتیں۔اسی طرح حضرت رسول کریم نہایت غربت کی حالت میں زندگی بسر کرتے تھے مگر عرب کا کوئی معزز قبیلہ نہ تھا جس کی لڑکی حضور کے گھر میں نہ ہو اور وہ لوگ اس بات پر فخر کرتے تھے۔اسی طرح حضور کے ایک صحابی تھے جو کسی پیدائشی نقص کی وجہ سے نہایت ہی بد شکل تھے اور نہایت درجہ غریب بھی۔جسم اور کپڑے خاک آلود تھے اسی حالت میں پسینہ سے لبریز وہ بازار میں کسی کی کوئی چیز بیچ رہے تھے مگر اس صحابی میں کوئی چیز تھی جس کی حضور کے دل میں قیمت تھی اسی حالت میں جب کہ خود انہیں اپنے آپ سے گھن آری تھی حضور پیچھے سے تشریف لائے اور جس طرح بچوں سے کھیلتے ہیں اپنے ہاتھوں سے ان کی آنکھیں بند کرلیں۔انہوں نے ٹول کر معلوم کر لیا کہ یہ حضور کے ہی ہاتھ ہیں کیونکہ حضور کے جسم پر بال بالکل ہی نہ تھے یا بہت کم تھے اور جسم بھی نہایت درجہ ملائم تھا اس پر وہ بھی محبت سے اپنا جسم حضور کے جسم سے رگڑنے لگے۔جس سے حضور کا جسم اور کپڑے بھی میلے ہونے لگے مگر حضور نے ذرہ بھر برا نہ منایا۔حضور نے ان پر ہاتھ رکھا اور فرمایا یہ میرا غلام ہے کوئی ہے جو اسے خریدے۔اس پر ان کا دل بھر آیا اور حضور سے کہا میرے آقا یہ تو ایک بے نفع اور بے نیمت چیز ہے اسے کون خریدے گا؟ حضور نے فرمایا ہر گز نہیں اللہ کے نزدیک اس کی بہت قیمت ہے۔کہ جو لوگ مالی تنگی کی وجہ سے دین کے خادموں کی کم قیمت لگاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں کیا وہ چیز تو قیمتی ہے جس کے امریکن یا سکھ اور ہندو خریدار ہوں مگر اس چیز کی کوئی قیمت نہیں جس کا خود اللہ تعالی خریدار ہے۔ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب میں یہ خوبی ہے اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں وہ چیز نظر آگئی جو دوسروں کو نظر نہیں آتی۔انہوں نے اپنی پہلی لڑکی بھی ایک خادم دین کو دی تھی یعنی صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی۔اگر چہ وہ ڈاکٹر ہیں اور ہزاروں روپیہ ماہوار کماتے ہیں ں مگر وہ اپنی لڑکی ایک واقف زندگی کو دے رہے ہیں کیونکہ اس میں انہیں وہ چیز نظر آتی ہے جو انہیں اپنے آپ میں نظر نہیں آتی۔میں نے خوش قسمتی اس لئے کہا ہے کہ کئی لوگ باوجود خادم دین