خطبات محمود (جلد 3) — Page 662
خطبات محمود ۶۶۲ جامد سوم مشکوں کو پھوڑ دے۔لیکن امریکنوں اور انگریزوں کے نزدیک وہی شراب ایک قیمتی چیز ہے اسی لئے علم اقتصادیات کے ماہرین نے دولت (Wealth) اور روپیہ (Money) میں فرق کیا ہے۔چنانچہ یورپین لوگ عموماً کہا کرتے ہیں کہ ہندوستان ایک دولت مند ملک ہے۔لیکن کئی ہندوستانی یہ دیکھ کر کہ اس ملک کے باشندے بوجہ غربت بھوکے مرتے ہیں خیال کرتے ہیں کہ غلط بیانی ہے حالانکہ دولت مندی کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کی سرزمین میں اس قدر معدنی اور زرعی دولت مخفی ہے کہ اگر پورے طور پر اس سے فائدہ اٹھایا جائے تو دنیا کی بہت سی منڈیوں میں اس کی مانگ ہو۔دنیا میں بڑے بڑے ادیب اور فلاسفر گزرے ہیں کہ جو روپے کے لحاظ سے بے شک غریب تھے مگر ان کے پاس وہ چیز تھی جس کے اس زمانہ کے امراء اور ملوک تک خریدار تھے۔یونان میں ایک فلسفی دیو جانس سے نامی گزرا ہے وہ جہاں رہتا تھا اس کے قریب سے ایک دفعہ سکندر اعظم سے کا گزر ہوا تو سکندر بھی اس کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔دیو جانس اس وقت دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا کیونکہ اس کا خیال تھا اور یہ خیال آج کل کی جدید تحقیقات نے درست قرار دیا ہے کہ سورج کی شعائیں جسم انسانی کے لئے بہت مفید ہیں۔سکندر نے کہا کہ اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ خدمت کے لئے حاضر ہے۔دیو جانس نے صرف اس قدر کہا کہ آپ نے دھوپ سے مجھے اوٹ میں لے لیا ہے۔اس لئے دھوپ چھوڑ دیں۔دیو جانس کے نزدیک دھوپ جسے عموماً معمولی سی چیز خیال کیا جاتا ہے ایسی قیمتی چیز تھی کہ اس کے مقابلہ میں سکندر کی خدمت کی پیشکش بے قیمت تھی۔بہر حال باوجود غربت کے دیو جانس کے پاس وہ چیز تھی جس کی سکندر کے دل میں بھی قدر تھی۔اسی طرح ہارون رشید کا واقعہ ہے کہ اس نے اپنے دو لڑکے ایک ادیب کے پاس جو ظاہری مال و دولت کے لحاظ سے کچھ بھی نہ تھا تعلیم کے لئے بھیجے۔ایک دن اس نے دیکھا کہ جب استاد نے اپنا جوتا اتارا تو جو تا سنبھالنے کے لئے دونوں شہزادے ایک دو سرے سے لڑ پڑے اس پر ہارون رشید نے اسے کہا کہ تو ایسا شخص ہے جو مر نہیں سکتا۔تجھ میں وہ چیز ہے جو موت کے بعد بھی تجھے زندہ رکھے گی۔کیا ظاہری مال و دولت کے لحاظ سے حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح ناصری علیہما السلام اور ان حضرت رسول کریم ای دولت مند تھے ؟ ہر گز نہیں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی یہ حالت تھی کہ فرمایا کہ ہوا کے پرندوں کے لئے گھونسلے ہیں مگر ابن آدم کے لئے کوئی پناہ کی جگہ