خطبات محمود (جلد 3) — Page 661
محمود 441 ۱۴۶ جلد سوم اخلاص دولت سے زیادہ قیمتی ہے (فرموده ۱۴- دسمبر ۱۹۵۳ء) ۱۴ دسمبر ۱۹۵۳ء بروز سوموار حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بعد نماز عصر مسجد مبارک میں مرزا محمد ادریس صاحب سابق مبلغ بورنیو کا نکاح امتہ العزیز صاحبہ بنت محترم حافظ ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب آف بورنیو سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : گلے کی تکلیف کے باعث میں کوئی تقریر تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نکاح کے متعلق میں کچھ کہنا ضروری خیال کرتا ہوں۔چند سال سے مجھے اطلاعات ملتی رہی ہیں کہ لوگ واقف زندگی کو اس لئے لڑکیاں دینے سے گریز کرتے ہیں کہ بوجہ وقف زندگی انہیں تنگی سے گزارہ کرنا پڑے گایا یہ کہ وہ بھو کی مریں گی۔اگر یہ اطلاع صحیح ہے اور بیان کرنے والوں کو غلط فہمی نہیں ہوئی تو میں کہوں گا کہ جس شخص نے اس قسم کے خیال کا اظہار کیا ہے وہ عقل و خرد سے بالکل عاری ہے کیونکہ دولت روپے ہی کا نام نہیں بلکہ اس قابلیت اور اس چیز کا نام ہے جس کی کسی نہ کسی منڈی میں قیمت پڑے مثلاً اگر کسی کے پاس دو تین من افیون ہو تو اگر چہ جو لوگ اسے استعمال نہیں کرتے انکے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہ ہو مگر سکھوں کے علاقہ میں یا ایسے لوگوں کے نزدیک جو اسے استعمال کرتے ہیں یہ لاکھوں روپے کی چیز ہے اس طرح بھنگ چرس اور شراب وغیرہ ہیں۔شراب کے مٹکے اگر مسلمانوں کے محلہ میں کسی کے پاس ہوں گے تو لوگ اسے یہی مشورہ دیں گے کہ اسے پھینک دے شاید کوئی منچلا ہمسایہ ایسا بھی نکل آئے جو خود ہی جاکر ان