خطبات محمود (جلد 3) — Page 618
خطبات محمود YIA جلد سوم کام ان کے سپرد کیا گیا تھا گو آخری حصہ کے وقت مولوی صاحب وفات پاچکے تھے تاہم تیسری جلد جو شائع ہوئی ہے اس کی تدوین لغت اور ترجمہ کا بہت کچھ کام انہوں نے ہی کیا۔ان کی وفات کے بعد مولوی نور الحق صاحب کے سپرد یہ کام کیا گیا باوجود اس کے کہ ان کا علمی پایہ مولوی محمد اسماعیل صاحب جیسا نہیں اور باوجود نوجوان اور نا تجربہ کار ہونے کے انہوں نے میرے منشاء کو سمجھا اور خدا تعالیٰ نے انہیں میرے منشاء کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ان تین وجوہ کی بناء پر مولوی صاحب کے بچوں کے نکاح کا اعلان کرنا نہ صرف میرے اعلان کے مخالف نہیں بلکہ عین مطابق ہے۔اس خطبہ کے بعد حضور نے مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم کے لڑکے کے نکاح کا اعلان فرمایا) حضور نے فرمایا : خطبہ تو میں پڑھ چکا ہوں لیکن دوستوں کو ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں آج کل لوگوں میں ایک شدید مرض پھیل چکا ہے کہ ناموں کو لمبا کیا جاتا ہے اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اگلی نسل کے نام لیتے وقت ان کو یہ کہنا پڑے گا کہ آپ اپنا نام بولتے جائیں اور میں دہراتا جاؤں گا۔اسی مسجد میں ایک نکاح کے موقع پر اسی قسم کا ایک واقعہ ہوا۔اتفاق کی بات ہے کہ مفتی محمد صادق صاحب بھی میرے پاس بیٹھے تھے ان کے لڑکے میاں منظور احمد صاحب کی شادی سید اعجاز علی صاحب کی صاحبزادی کے ساتھ قرار پائی تھی۔میں نے نکاح کے اعلان کے وقت سید صاحب کا نام دستور کے مطابق عزت سے لے لیا یعنی سید اعجاز علی صاحب اس پر سید صاحب اکڑوں کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا میرا نام سید پیر میر اعجاز علی شاہ ہے۔میں نے دوبارہ اسی طرح نام لیا لیکن کچھ حصہ نام کا پھر رہ گیا اس پر وہ پھر گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور پھر اپنا نام بتلانا شروع کیا اس پر میں نے کہا کہ آپ بولتے جائیں اور میں دہراتا جاتا ہوں۔سب لوگ اس لطیفہ کو سمجھ گئے لیکن وہ نہ سمجھے اور بڑی سنجیدگی کے ساتھ انہوں نے کہنا شروع کیا سید پیر میر اعجاز علی شاہ اور میں دہرا تا گیا۔یہ ایک سخت غلطی ہے کہ نام کو خواہ مخواہ لمبا کیا جیسے سیدہ اختر سعیده انور وغیرہ وغیرہ۔یہ مرض مردوں اور عورتوں دونوں میں ہے۔صالحہ ایک مکمل نام ہے اور اس کے آگے کچھ اور لگانے کی ضرورت نہیں امتہ اللہ اور امتہ