خطبات محمود (جلد 3) — Page 604
خطبات محمود ۶۰۴ جلد سوم ہے یا اچھا، میں نے اپنے ماضی میں اچھا درخت لگایا ہے یا برا تو ماضی کے مطالعہ سے اسے یہ تو موقع مل جائے گا کہ اگر وہ دیکھے گا کہ میں نے ماضی میں خراب درخت لگایا ہے جو کبھی اچھے پھل نہیں لا سکتا تو وہ اس برے درخت کو اکھاڑ سکتا ہے۔اگر اس نے آم کی بجائے کیکر کا درخت لگایا ہے اور اسے اپنے ماضی کا مطالعہ کرنے کا موقع مل گیا ہے تو اور نہیں تو کم از کم وہ اس کیکر کو اکھاڑ سکتا ہے۔اسی طرح اگر انسان اپنے گذشتہ اعمال کا محاسبہ کرتا ہے اور اگر وہ خراب ہوں تو ان سے توبہ کرے اور خدا کے حضور جھکے اور معافی مانگے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گو اپنے گذشتہ اعمال کو بدل لینا اس کے اختیار میں نہیں مگران اعمال کے بد نتایج کو اس رنگ میں بدل سکتا ہے کہ تو بہ کرے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگے کیونکہ خدا کو قدرت ہے کہ کانٹوں کو اکھاڑ دے اور اس کی جگہ خوشنما اور پھلدار درخت لگا دے۔پس انسان کو اپنے اعمال میں ہمیشہ دو باتوں پر توجہ رکھنی چاہئے۔ایک اللہ تعالیٰ پر انحصار اور اس سے مستقبل کی فلاح طلب کرنا اور دوسرے اپنے گذشتہ اعمال کا محاسبہ تاکہ وقت پر اپنی برائی کا اسے علم ہو سکے اور اس برائی کے بد نتائج کو وہ تو بہ کر کے اور خدا سے معافی مانگ کر بدل سکے اور جب ان دو باتوں پر انسان عمل کرے تو اس کے مستقبل کی بھلائی کے متعلق ایک حد تک یقین اور وثوق پیدا ہو سکتا ہے۔له الفضل ۱۵ د سمبر ۱۹۴۴ء صفحه ۱ الحشر : ۱۹ الفضل ۲۶ فروری ۱۹۴۵ء صفحه ۴۰۳) ه بخاری کتاب المغازی باب این ركز النبي صلى الله عليه وسلم الراية يوم الفتح ه الشعراء: ۴ شه بخاری کتاب المغازى باب قول الله تعالى ان تستغيثون ربكم فاستجاب لكم۔۔۔