خطبات محمود (جلد 3) — Page 588
خطبات محمود ۵۸۸ جلد سوم پس بشری میری بھتیجی ہے۔اس کے بعد میں نے اس بات کا ذکر مریم مرحومہ کے خاندان کے بعض افراد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اپنا خیال یہ ہے کہ مرحومہ کے گھر میں کوئی بڑا آدمی ضرور ہونا چاہئے اور اس وجہ سے ہم میں سے بعض کی رائے یہی ہے کہ آپ اور شادی کرلیں تو اچھا ہے اور کہ اگر ہمارے ہی خاندان میں ہو جائے تو اور بھی اچھا ہے اس صورت میں بچوں کی نگرانی زیادہ آسان ہوگی۔تب میرا ذہن اس طرف گیا کہ ان کے خاندان میں بھی ایک لڑکی بشری نام کی ہے اور اتفاق کی بات ہے کہ بعض بیماریوں کی وجہ سے اس کی شادی اس وقت تک نہیں ہو سکی اور اس کی عمر بھی بڑی ہو گئی ہے اور اس لئے وہ بچوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کا کام زیادہ اچھی طرح کر سکے گی۔اس کے بعد میں نے استخارہ کیا تو رویا ہوئی جو یکم جون ۱۹۴۴ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔رویا میں میں نے دیکھا کہ مجھے کوئی سفر در پیش ہے اور اس کے لئے میں سوچتا ہوں کہ کس رنگ میں کروں مولوی ابو العطاء صاحب ایک سواری میرے سامنے پیش کرتے ہیں اور بجائے اس کے کوئی جانور مجھے دکھا ئیں مجھے ایک سر دکھاتے ہیں جو میں سمجھتا ہوں کہ خچر کا سر ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کیا میں اس کو آپ کی سواری کے لئے سدھاؤں اور میں کہتا ہوں بے شک سدھائیں۔مگر کوئی خاص رغبت میرے دل میں پیدا نہیں ہوتی میں کچھ آگے جاتا ہوں تو وہ میرے پیچھے دوڑتے ہوئے آتے ہیں اور پھر اس فیچر کا سر مجھے دکھاتے اور کہتے ہیں کہ دیکھتے ہیں اس کو آپ کی سواری کے لئے سدھاتا ہوں تیسری بار وہ پھر آتے اور کہتے ہیں کہ میں اس کو سدھا رہا ہوں اور اس کی تعریف کرتے ہیں کہ یہ بڑی عمدگی سے سیکھ رہا ہے۔اس کے بعد میں اس ٹیچر پر سواری کرنے اور اپنے سفر کو پورا کرنے کے لئے جاتا ہوں مگر جب وہ سواری میرے سامنے آئی تو میں نے دیکھا کہ مادہ شتر مرغ ہے۔یہ رویا شائع ہو چکی ہے مگر اس کی تعبیر شائع نہیں ہوئی۔معبرین نے لکھا ہے کہ نیچر کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ ایسی عورت سے شادی ہو جس کے ہاں اولاد نہیں ہو سکتی اور مجھے بشری بیگم صاحبہ کے متعلق علم تھا کہ ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ ان کے ہاں اولاد نہیں ہو سکتی مگر میں نے سوچا کہ خواب میں میں جس پر سوار ہونے لگا ہوں وہ خچر نہیں بلکہ مادہ شتر مرغ ہے اس لئے ممکن ہے وہ کوئی اور عورت ہو جس سے شادی ہوگی۔یہ خیال کر کے میں نے پھر تعبیر نامہ کے ورق الٹنے شروع کئے اور شتر مرغ پر سواری کی تعبیر دیکھی تو وہاں لکھا تھا کہ ایسی