خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 587

خطبات محمود ۵۸۷ جلد سوم السلام نے فرمایا کہ ذہن کا انتقال بعض لاہور کے دوستوں کی طرف ہوا گو یہ انتقال ذہنی تھا مگر واقعہ نے بتادیا ہے کہ در حقیقت یہ الہام لاہو ر ہی کے بارہ میں تھا کیونکہ ام طاہر احمد لاہور میں ہی فوت ہو ئیں۔اللہ تعالٰی کے الہامات فضول نہیں ہوتے۔خالی یہ خبر دینا کہ ایک افسوسناک خبر آئی بغیر کسی ایسے قرینہ کے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ خبر کس کے متعلق ہے کس قسم کی ہے بالکل بے معنی ہو جاتا ہے لیکن جب ہم یہ امر دیکھیں کہ یہ سلسلہ الہام ہے پہلے پسر موعود کے ظہور کا ذکر ہے، پھر دشمنوں کے شور اور ان کی ناکامی کا، پھر ایک افسوس ناک خبر کا، جس کا نتیجہ یہ پیدا کیا ہے کہ بہتر ہو گا کہ اور شادی کرلیں تو ان الہامات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ افسوس ناک خبر کسی کی بیوی کی وفات کی خبر ہے کیونکہ اگلا الہام کسی مرد کی نسبت کہتا ہے کہ بہتر ہے کہ شادی کرلیں۔پس افسوس ناک خبر سے مراد اس شخص کی بیوی کی وفات ہی ہو سکتی ہے۔اور چونکہ اسی سلسلہ میں الہامات میں پسر موعود کے سوا کسی اور مرد کا ذکر نہیں اس لئے یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ فوت ہونے والی بیوی پسر موعود کی بیوئی ہوگی۔جو پسر موعود کے دعوئی کے قریب زمانہ میں لاہور میں فوت ہوئی۔ان تمام الہامات کے پڑھنے کے بعد اور یہ دیکھ کر کہ ادھر مجھ پر اس پیشگوئی کے میری ذات میں پورا ہونے کا انکشاف ہوا ادھر پیغامیوں نے پورے جوش کے ساتھ حملے شروع کر دیئے ، پھر ام ظاہر کی وفات واقع ہوئی میں نے سمجھا کہ شاید میرا یہ نتیجہ نکالنا کہ بچوں کو کسی اور بیوی کے سپرد کرنا چاہئے صحیح نہیں ہے اور اللہ تعالی کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ شادی کرنا بہتر ہو گا۔تب میرا ذہن اس طرف گیا کہ جو دوسری بیوی بھی آئے گی بچے اسے غیر سمجھیں گے اور مرحومہ کے رشتہ دار بھی اس کے پاس نہیں آسکیں گے اور اس طرح بچوں کو دیکھ نہ سکیں گے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان میں سے جو کمزور ہوں گے وہ اس کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو مریم مرحومہ کے ساتھ امتہ الحی مرحومہ کے بعض رشتہ داروں نے کیا تھا اس کا جواب کچھ دن تک میں نہ دے سکا۔اتفاقاً ایک روز میں نے تذکرہ سے فال دیکھی۔میں فال کا قائل تو نہیں مگر مصیبت کے وقت بعض دفعہ انسان ان باتوں کی طرف بھی توجہ کر لیتا ہے جن کا وہ قائل نہیں ہو تا بشر طیکہ وہ ناجائز نہ ہوں۔میں نے تذکوہ کھولا تو اس میں لفظ بشری موٹے حرف میں لکھا ہوا نظر آیا۔اس وقت مجھے معلوم نہیں کہ وہ کونسا صفحہ تھا اسے دیکھ کر میرا ذہن اس طرف گیا کہ میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کی لڑکی کا نام بشری ہے مگر اس سے تو میری شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا کیونکہ میر صاحب مرحوم نے حضرت اماں جان کا دودھ پیا ہے