خطبات محمود (جلد 3) — Page 574
خطبات محمود ۵۷۴ جلد سوم سمجھتا تھا جس بات کو جوانی میں نہیں سمجھتا تھا مگر جس بات کا ایک لمبے تجربہ کے بعد مجھے قائل ہونا پڑا وہ یہ ہے کہ خدا تعالی کی طرف سے مکافات عمل کا سلسلہ دنیا میں ایسے باریک طور پر جاری ہے کہ جو شخص اس سلسلہ کا مطالعہ کرتا ہے وہ حیران رہ جاتا ہے اور بعض دفعہ تو یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ تو بہ اور معافی کوئی چیز ہی نہیں۔دنیا میں مکافات عمل ایسی شدت سے جاری ہے اور ایسے باریک در باریک اور پیچیدہ در پیچیدہ طریق پر اور ایسے مماثل طور پر وہ شکل اختیار کر کے ظاہر ہوتی ہے کہ انسان کو حیرت آجاتی ہے اور وہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ اگر دنیا میں یہ سلسلہ جاری ہے تو پھر تو بہ اور معافی کے معنی ہی کیا ہوئے۔ہیں بات یہ ہے کہ لوگ زبانی تو بہ کو تو بہ اور استغفار کو استغفار سمجھ لیتے ہیں اور خیال کر لیتے ں کہ جب انہوں نے زبان سے معافی مانگ لی اور جب انہوں نے مونہہ سے استغفار کر دیا تو خدا نے بھی ان کو معاف کر دیا ہو گا حالانکہ جو چیز معافی دلاتی ہے وہ زبانی تو بہ نہیں بلکہ وہ گھری تو بہ ہے جو دل کو چیر دینے والی اور اسے خون کر دینے والی ہوتی ہے۔وہ تو بہ ہو تو انسان مکافات عمل سے بچ سکتا ہے ورنہ ننانوے فی صدی لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جو گناہوں کے بعد توبہ کرتے ہیں مگر ان کی توبہ حقیقی توبہ نہیں ہوتی۔ان کا استغفار حقیقی استغفار نہیں ہوتا وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کا گناہ معاف ہو چکا مگر بار یک در باریک راہوں سے انہیں اپنے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔میں نے اس بات کا تجربہ کیا اور بار ہا اور متواتر تجربہ کیا ہے۔بعض دفعہ دس دس پندرہ پندرہ سال کے بعد کوئی شخص پکڑا جاتا ہے وہ اس وقت یہ نہیں سمجھ رہا ہو تاکہ وہ کیوں پکڑا گیا مگر مجھے اس کا دس یا پندرہ سال پہلے کا کوئی واقعہ یاد ہوتا ہے اور میں سمجھ رہا ہوتا ہوں کہ وہ کیوں اس کی گرفت میں آیا۔میں نے اس بات کو اتا دیکھا ہے اتنا دیکھا ہے کہ مجھے یوں معلوم ہوتا ہے دنیا میں تدبیر کچھ نہیں تقدیر ہی تقدیر چل رہی ہے۔پس چونکہ دنیا میں تمام اشیاء تأثیر و تأثر کا ایک لمبا سلسلہ اپنے اندر رکھتی ہیں۔اس لئے جب۔ساعت کے ایک حصہ میں یہ نقص پایا جاتا ہے کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والوں کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو میں واقفین سے کہتا ہوں کہ ان کو بھی غور کرنا چاہیئے کہ کیوں ان کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔بے شک وہ واقفین زندگی ہیں مگر میں ان میں بھی دنیا داری دیکھتا ہوں۔فرض کرو ہماری جماعت میں سے بعض دنیا دار یہ کہتے ہیں کہ ہم ایسے شخص کو اپنی لڑکی کیوں دیں جس کے پاس دنیا نہیں اور ان کی یہ بات سن کر وہ واقف زندگی یا