خطبات محمود (جلد 3) — Page 559
خطبات محمود ۵۵۹ جلد سوم ہو جاتی وہ لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کے دلوں میں کینہ اور بغض پیدا کرنے کا موجب بن جاتی ہے۔اس طرح بعض دفعہ قبائل میں شادیاں ہوتی ہیں مگر بجائے اس کے کہ وہ مرد اور عورت کے دل میں محبت پیدا کرنے کا موجب ہوں قبائل میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑ کانے کا موجب بن جاتی ہیں اور ان میں آپس میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ اگر دو خاندانوں میں لڑائی نہیں ہوتی تو کم سے کم مرد اور عورت کی آپس میں ہمیشہ لڑائی رہتی ہے حالانکہ مرد نکاح کی مجلس میں براہ راست حاضر ہو کر اور عورت اپنے ولی کے ذریعہ اقرار کرتی ہے کہ وہ آپس میں میاں بیوی بن کر رہیں گے۔مرد بھی اس کا اقرار کرتا ہے اور عورت بھی اس کا اقرار کرتی ہے لیکن وہ دونوں ہی سب سے زیادہ اس اقرار کی بے حرمتی کرنے والے ہوتے ہیں۔وہ مجلس میں کہتے ہیں کہ ہمیں نکاح منظور ہے مگر ان کا رات دن کا چین یہ ہوتا ہے کہ عورت جو بات کہتی ہے مرد کہتا ہے کہ میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں اور مرد جو بات کہتا ہے عورت اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔گویا وہی دو افراد جو مجلس میں سب کے سامنے یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ آپس میں محبت اور پیار سے رہیں گے اس عہد کی رات اور دن خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔وہ مونہہ سے نہیں کہتے کہ ہم اس محمد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں مگر اپنے عمل سے اس کا اظہار کرتے ہیں۔در حقیقت رسول کریم ﷺ نے حمد سے کلمات نکاح شروع کر کے بتایا ہے کہ یہ طریقہ اچھا نہیں تم کو اپنے نکاحوں کی بنیاد ایسے طریق پر رکھنی چاہئے جو حمد پیدا کرنے کا موجب ہو تا کہ تم سچے دل سے نَحْمَدُہ کے مقام پر کھڑے ہو سکو اور تمہارے دل سے ہر وقت اللہ تعالی کی حمد بلند ہوتی رہے۔الفضل ۲ دسمبر ۱۹۶۰ء صفحه ۴۷۳) ه الفضل ۲ ستمبر ۶۱۹۴۲ له این ماچه ابواب النکاح باب خطبة النكاح ه بخاری باب كيف كان بدء الوحى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ه بخاری کتاب الایمان والنذور باب ما جاء أن الاعمال بالنية والحسبة ولكل امرى مانوى۔۔۔