خطبات محمود (جلد 3) — Page 560
خطبات محمود ۵۶۰ ۱۲۴ جلد سوم خد اتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ قادیان بہت ترقی کرے گا (فرموده ۹ - ستمبر ۱۹۴۲ء) ۹ ستمبر ۱۹۴۲ء بعد نماز عصر مسجد مبارک قادیان میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مکرم میاں صلاح الدین صاحب ابن جناب مولوی فضل الدین صاحب وکیل کا نکاح محترمہ اقبال جہاں بیگم بنت کیپٹن عمر حیات خان صاحب ساکن بنوں سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اور وہی لوگ اس قدرت کا مشاہدہ کر سکیں گے اور کرتے ہوں گے اور اس سے لطف اٹھا سکتے ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی ایام کے حالات کو دیکھا ہو ، بعد میں آنے والے اس کا اندازہ اور قیاس نہیں کر سکتے۔جبکہ قادیان ایک چھوٹی سی بستی تھی جب قادیان میں احمدیوں کی تعداد اس چھوٹی سی بستی میں بھی آٹے میں نمک کے برابر نہیں تھی، جب ساری احمدی آبادی صرف تین گھروں میں محصور تھی، ہمارا گھر تھا، حضرت خلیفہ اول کے مکان کا کچھ حصہ تھا یا وہ مکان تھا جہاں مولوی قطب الدین صاحب اب مطب کیا کرتے ہیں۔اسی طرح تیسری عمارت موجودہ مہمان خانہ کی تھی، یہ یہ صرف چار عمارتیں اس زمانہ میں تمھیں درمیان کی عمارتیں، ساتھ کی عمارتیں، بورڈنگ اور مدرسہ کی عمارتیں سب بعد کی ہیں۔خود یہ گھر جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہتے تھے بہت چھوٹا سا تھا اور اس کے کئی حصے اس وقت نہیں بنے تھے تو یہ تھوڑی سی آبادی تھی جو اس وقت احمدی جماعت کہلاتی تھی۔مجھے یاد ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ پہلا جلسہ تھایا