خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 537

محمود ۵۳۷ جلد سوم پس شادی کرتے وقت ہر انسان کو اس ذمہ داری کے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اس عائد ہوتی ہے۔اس خیال سے شادی نہیں کرنی چاہئے کہ ایک ایسی عورت آئے جو میری خدمت کرے بلکہ اس نیت اور اس ارادہ سے شادی کرنی چاہئے کہ ایک ایسی عورت آئے جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے مجھے اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائے اور ہم دونوں مل کران فرائض اور واجبات کو ادا کریں جو اللہ تعالی کی طرف سے ہم پر عائد کئے گئے ہیں۔اگر اس رنگ میں شادیاں کی جائیں تو لازما فساد مٹ جائے گا خاوند بیوی کے رشتہ داروں سے کبھی بد سلوکی نہیں کرے گا اور بیوی خاوند کے رشتہ داروں سے کبھی بد سلوکی نہیں کرے گی بلکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہوں گے۔یہی ذریعہ ہے جو دنیا میں امن قائم کر سکتا ہے۔جب تک لڑکی کے رشتہ دار اس خیال میں رہیں گے کہ لڑکا اپنے ماں باپ کی خدمت نہ کرے بلکہ ہماری کرے اور جب تک لڑکے کے رشتہ دار اس خیال میں رہیں گے کہ لڑکی اپنے ماں باپ کی خدمت نہ کرے بلکہ ہماری کرے اس وقت تک دنیا کبھی سکھ نہیں پاسکتی۔جس طرح ہاتھ کے دیکھنے سے سر کو سکھ نصیب نہیں ہو سکتا اسی طرح بیوی کے دکھ سے خاوند کو سکھ نصیب نہیں ہوگا، خاوند کے دکھ سے بیوی کو سکھ نہیں ہو گا اور ان دونوں کے دکھ سے ان کے رشتہ داروں کو سکھ نصیب نہیں ہو گا۔لیکن اگر اس ذمہ داری کو سمجھ لیا جائے اور لوگ اس طرف توجہ کریں تو دنیا کا اس میں فائدہ ہو گا۔مگر لوگوں کی مثال بعض دفعہ اس بیوقوف کی سی ہو جاتی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا کہ کسی نے اس سے کنا میاں دھوپ میں کیوں بیٹھے ہو سائے میں آجاؤ وہ کہنے لگا اگر میں سائے میں آجاؤں تو تم مجھے کیا دو گے؟ یہ بھی دکھ اٹھاتا ہے تکلیف سہتا ہے مگر اس سایہ کے نیچے نہیں آتا جو رسول کریم ﷺ نے تیار کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں عَلَيْكَ بِذَاتِ الدین مناسب یہی ہے کہ تم ایسی عورت لاؤ جو اپنے فرائض اور واجبات کو سمجھنے والی ہو اسی طرح لڑکی کے لئے ایسا خاوند تلاش کرنا چاہئے جو اپنے فرائض اور واجبات کو سمجھنے والا ہو۔اگر اس امر کو مد نظر نہیں رکھو گے۔اور چاہو گے کہ لڑکی ایسی ہو جو صرف تمہاری خدمت کرنے والی ہو یا لڑکا ایسا ہو جو صرف تمہاری خدمت کرنے والا ہو تو تم دکھ پاؤ گے کیونکہ جو شخص دوسروں کے حقوق غصب کرتا ہے وہ صرف دوستوں کو ہی نقصان نہیں پہنچا تا بلکہ اپنے لئے بھی ظلم کا بیج ہوتا ہے۔حقوق کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے لڑکے بعض دفعہ پندرہ میں اینٹیں ایک لائن میں