خطبات محمود (جلد 3) — Page 521
خطبات محمود ۵۲۱ جلد سو مرزا عزیز احمد صاحب نے بھی اپنی لڑکی کا بہت خیال رکھا ہے مگر محمد رسول اللہ الہی کی پرورش کرنے والے ان کے چچا تھے اور چچا کے متعلق بھتیجا یہی سمجھا کرتا ہے کہ اگر وہ مجھے پالتا ہے تو مجھ پر احسان کرتا ہے۔اپنی ماں اور اپنے باپ پر تو وہ اپنا حق سمجھتا ہے مگر کسی دوسرے سے اسے چیز مانگتے ہوئے حجاب آتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ میں اس سے کیوں مانگوں میرا کوئی حق تو نہیں۔تو وہ حالت جو رسول کریم ﷺ کی تھی اور وہ بے بسی کی کیفیت جو اس امر سے ظاہر ہوتی ہے کہ رسول کریم اے الگ ایک گوشے میں کھڑے رہتے اور اگر کچھ کھانے کو ملتا تو لے لیتے۔نہیں تو زبان سے کچھ نہ کہتے۔ہماری بچیوں کی حالت اس سے بدرجہا بہتر رہی۔مگر پھر رسول کریم ﷺ کی حالت بھی بدل گئی اور اس میں اتنا زبر دست اور عظیم الشان تغیر آگیا کہ آپ ہی دنیا کے مالک بن گئے اور تمام جہان آپ کے قدموں میں گر گیا۔اسی طرح ان بچیوں اور ان سے تعلق رکھنے والوں کے بھی اختیار میں ہے کہ وہ اگر چاہیں تو ترقی کر سکتے ہیں اور بہت زیادہ عزت اور عظمت حاصل کر سکتے ہیں اگر وہ خدا تعالیٰ کے ہو جائیں تو ان کو بھی عزت مل سکتی ہے اور ان کے غم اور دکھ بھی خوشی سے بدل سکتے ہیں۔باقی رہی مرنے والوں کی جدائی سو یہ تو ایک عارضی جدائی ہے۔چنانچہ موت کی خبر سن کر اسلام نے زبان سے و کلمہ کہنے کا ارشاد فرمایا ہے وہی اس قدر امید افزا ہے کہ اس کو زبان سے نکالنے کے بعد کوئی کلفت باقی نہیں رہتی۔اسلام کہتا ہے جب کسی کی موت کی خبر سنو تو تم کہو اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَا الیه رَاجِعُونَ۔لا یعنی اے مرنے والے ہم اللہ کے ہیں اور جہاں تم جا رہے ہو وہیں ایک دن ہم بھی آرہیں گے۔دنیا کی جدائیوں میں بے شک تکلیف ہو سکتی ہے۔مگر اس آخری جدائی میں جو موت کی جدائی ہے اگر انسان ایمان پر قائم ہو تو کوئی زیادہ تکلیف نہیں ہو سکتی۔کیونکہ انا لله وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ میں اللہ تعالیٰ نے ملاقات کا وعدہ دیا ہوا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی باتوں کی عظمت کو سمجھتا ہو۔خدا تعالیٰ کی طرف۔ایک ہوا چل رہی ہے جو شخص خدا تعالیٰ کی اس چلائی ہوئی ہوا کے موافق چلتا ہے وہ سرعت کے ساتھ آگے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے مگر وہ جو خدا تعالیٰ کی چلائی ہوئی ہوا کے مخالف چلتا ہے وہ گرتا ہے اور پھر سنبھلتا ہے پھر گرتا ہے اور پھر سنبھلتا ہے یہاں تک کہ آخری دفعہ ایسا گر تا ہے کہ ہمیشہ کے لئے گر جاتا ہے۔الفضل ۳۔مئی ۱۹۶۱ء صفحہ ۲ تا ۷)