خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 506

خطبات محمود 0۔4 جلد سوم سال چلتی ہے، کسی کی جوانی پچاس سال چلتی ہے، کسی کی جوانی ساٹھ سال چلتی ہے اور کسی کی جوانی ستر سال چلتی ہے بہرحال اس کی جوانی کا جو بھی اندازہ ہو انسان اس عمر تک چلتا چلا جاتا ہے اور اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ جوانی کی سڑک پر چل رہا ہے۔مگر چلتے چلتے اسے ایک دم ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ چلنا سمجھ رہا تھا وہ دراصل واپس لوٹنا تھا۔سڑک بالکل سیدھی معلوم ہوتی ہے اور اس میں کوئی خم دکھائی نہیں دیتا لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے اور انسان اس سڑک پر سے گزر کر پھر واپس لوٹ رہا ہوتا ہے مگر خدا تعالٰی نے انسانی زندگی میں کچھ ایسا جادو بھر دیا ہے کہ واپس لوٹنا معلوم ہی نہیں ہوتا۔نہ اسے سڑک میں کوئی خم دکھائی دیتا ہے نہ اس کے نفس میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ میں ٹیڑھا ہونے لگا ہوں۔زمانہ کی لکیر بھی سیدھی ہی ہوتی ہے چنانچہ پچاس کے بعد ۵۱ ہی آتا ہے ۴۹ نہیں آتا اور اکاون کے بعد باون ہی آتا ہے اڑتالیس نہیں مگر باون بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ در اصل ۴۸ ہے۔اسی طرح باون کے بعد سینتالیس کبھی نہیں آئے گا آئے گا تو ترین ۵۳ ہی آئے گا مگر ترین اپنی ذات میں سینتالیس کا قائمقام ہو گا۔اسی طرح اسی ۸۰ کے بعد نوے، نوے ۹۰ کے بعد سو اور سو کے بعد ایک سو دس ہی آئے گا یہ نہیں ہو گا کہ اسی کے بعد ستریا نوے کے بعد اتنی یا سو کے بعد نوے یا ایک سو دس کے بعد سو آ جائے۔مگر حقیقتاً بعض دفعہ سو دو کے برابر ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ۔ایک کے برابر ہو جاتا ہے۔چنانچہ بعض لوگ جو سو برس کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں چھوٹے بچے کی طرح ہو جاتے ہیں چارپائی پر ہر وقت پڑے رہتے ہیں اور پوتے پڑپوتے انہیں رضائیوں میں لپیٹ کر ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جاتے ہیں اور ان کے منہ میں دودھ وغیرہ ڈالتے رہتے ہیں۔اس وقت بظاہر ان کی عمر سو سال کی ہی ہوتی ہے مگر دراصل ان کی عمر ایک یا دو سال کے بچے جتنی ہوتی ہے وہ سیدھے چل رہے ہوتے ہیں اور ہر ایک کو یہی نظر آتا ہے کہ وہ آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر دراصل وہ واپس لوٹ رہے ہوتے ہیں۔غرض خدا تعالٰی نے یہ ایک عجیب حیرت انگیز سلسلہ جاری کیا ہوا ہے جس کو سمجھنا انسانی عقل سے بالکل بالا ہے۔آج جس لڑکے کا نکاح پڑھانے کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ مجھ سے چھوٹے سے بھی چھوٹے بھائی کا لڑکا ہے اور جس لڑکی کا نکاح ہے وہ بھی بہر حال بڑی نہیں بلکہ اس سے بڑا ایک بھائی تھا جو فوت ہو چکا ہے۔اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ آگیا ہے جبکہ کبھی ہم خطبہ پڑھنے والے نہ تھے، خطبہ سننے والے نہ تھے بلکہ خطبہ اگر سنتے تو سمجھ بھی نہیں سکتے تھے۔مجھے یاد