خطبات محمود (جلد 3) — Page 494
خطبات محمود۔۴۹۴ جلد موم بھی بعض قیود ہوتی ہیں۔ہم جب کسی کو قیدی یا غلام کہتے ہیں تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ اس شخص کے اوپر تو کچھ پابندیاں ہیں اور جس کو ہم آزاد کہتے ہیں وہ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہے۔بلکہ در حقیقت دونوں کے اوپر ہی بعض پابندیاں ہوتی ہیں اور دونوں ہی بعض قیود سے آزاد بھی ہوتے ہیں۔مگر آج کل غلام اسے کہا جاتا ہے جس پر رواجی قید ہو اور آزاد ا سے کہا جاتا ہے جس پر کوئی جابرانہ رواجی قید نہ ہو یعنی ایک قیدی کو اس لئے قیدی کہا جاتا ہے کہ اس نے مثلاً غبن یا کوئی اور جرم کیا تو حکومت نے اس کو بطور سزا قید کر دیا۔اگر اسے کھول دیا جائے تو وہ فورا بھاگ جائے مگر وہ ماں جو اپنے گھر میں ہے اور اس کا اکلوتا بیٹا سخت بیمار پڑا ہے اور وہ اس کی چارپائی پر اس کے پاس بیٹھی ہے کیا وہ قیدی نہیں۔وہ بھی قیدی ہے بلکہ وہ اس پہلے قیدی کی نسبت زیادہ سخت قسم کی قید میں ہے مگر باوجود اس کے ہم اسے اس لئے قیدی نہیں کہتے کہ وہ کسی جرم یا کسی گناہ کے بدلہ میں قید نہیں بلکہ اپنے بچہ کی محبت کی وجہ سے اس کے پاس بیٹھی ہے۔گو ایسے حالات میں اگر ایک قیدی کو کہا جائے کہ بھاگ جا اور اس کے لئے بھاگنا ممکن ہو تو وہ ضرور بھاگ جائے گا اور اگر اس کے لئے بھاگنے کا کوئی امکان ہی نہ ہو تو بھی اس کا منشاء ضرور ہوتا ہے کہ موقع ملے تو وہاں سے بھاگ نکلوں اور اس کے دل میں ہر وقت بھاگنے کی خواہش موجود ہوتی ہے مگر وہ ماں جو اپنے اکلوتے بیمار بچے کی چارپائی پر بیٹھی رہتی ہے اس کو تو بھاگنے کی خواہش بھی نہیں ہوتی بلکہ اگر تم اسے کہو کہ وہ کیوں بھاگ نہیں جاتی تو وہ اس سے ناراض ہوگی اور کہے گی کہ تم میرے اور میرے اکلوتے بیٹے کی جان کے دشمن ہو۔پھر بعض لوگوں کو تین تین چار چار مہینے کی قید ہوتی ہے اور بعض کو قید بامشقت ہوتی ہے۔مگر اس کے مقابل پر دیکھ لو کیا ایسی ہی قید بعض حاملہ عورتوں کو ہوتی ہے یا نہیں؟ کئی حاملہ عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو ڈاکٹروں کے مشورہ کے مطابق چار چار پانچ پانچ مہینے چلنا پھرنا بند کر دیتی ہیں بلکہ بعض اوقات تو چھ چھ سات سات آٹھ آٹھ اور نو نو مہینے یعنی پورے ایام حمل تک ڈاکٹر عورتوں کو ملنے سے منع کر دیتے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ اس مریضہ کے لئے ہلنا نہایت مضر ہے اور وہ بے چاری اتنی مدت تک چار پائی پر پڑی رہتی ہے اور کروٹ تک بدل نہیں سکتی۔مگر کوئی شخص اس کا نام قید نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ لوگ جو حریت " " حریت " پکارتے رہتے ہیں عورتوں کی اس پابندی کو "حریت" کے خلاف قرار دیتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ قید کسی حکومت کی طرف سے نہیں یا جابرانہ طور پر نہیں بلکہ جس طرح حکومت نے بعض افراد پر