خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 436

خطبات محمود ۳ مهم 1۔2۔تقوی اللہ اور قول سدید اختیار کرنے کی نصیحت (فرموده ۲۶ - اگست ۱۹۳۷ء) ۲۶۔اگست ۱۹۳۷ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے دو نکاحوں لے کا اعلان فرمایا :- خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسان جب بلحاظ فہم و فراست اور بلوغت کمال کو پہنچ جاتا ہے تو اس کی کو ششیں دو دائروں میں محدود ہوتی ہیں، ایک دائرہ مستقبل کا ہوتا ہے اور ایک دائرہ ماضی کا ہوتا ہے۔انسان کے دل میں کچھ امیدیں ہوتی ہیں جن کو وہ پورا کرنا چاہتا ہے اور کچھ ناکامیاں ہوتی ہیں جن کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔کچھ چیزیں دور فضا میں ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنے مطمح نظر کے مطابق دیکھتا ہے اور کچھ قید میں ہوتی ہیں جو اسے گزشتہ زمانہ کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہیں اور اس کی رفتار کی تیزی کو کم کر دیتی ہے۔یہ دو چیزیں ہیں جن میں سے ایک انسان کو ترقی اور بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور دوسری اسے مشکلات میں ڈالتی اور ترقیات سے دور رکھتی ہے۔ادھر انسان کو مستقبل کا خیال آتا ہے اور اپنی اصلاح کرنے لگتا ہے تو ادھر ماضی کا خیال اس کی اصلاح میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔غرض انسان مستقبل کو دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور اپنی زندگی کو اعلیٰ بنانا چاہتا ہے مگر جونہی اس کا خیال ماضی کے حالات کی طرف منتقل ہو جاتا ہے وہ مستقبل پر فریفتگی کو بھول جاتا اور ماضی کی الجھنوں میں گرفتار ہو جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا مستقبل بھی خراب ہونے لگ جاتا ہے۔فرض کرو ایک چالیس سالہ گناہ گار آدمی کو تو بہ کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کی توفیق ملتی ہے تو اس کو گزشتہ چالیس سال کا زمانہ بھی یاد آجاتا ہے جو