خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 429

خطبات محمود ۴۲۹ جلد سوم ہاں۔پھر اس شخص نے دوبارہ پوچھا کہ نہیں اگر ذرا سی ہوا خارج ہو جائے تو پھر بھی۔اس نے کہا پھر بھی ٹوٹ جاتا ہے۔پھر اس نے اپنی دونوں انگلیوں سے بتا کر کہا کہ اگر بالکل ذراسی ہوا خارج ہو جائے تو کیا پھر بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔اس پر ملا نے جھلا کر کہا کہ تیرے جیسے کا تو اگر پاخانہ بھی نکل جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔پس جب شکوک اعتراض کے مقام پر پہنچ جائیں اور پھر کوئی شخص کہے کہ میں بیعت میں شامل ہوں تو یہ پرلے درجہ کی حماقت ہو گی۔شک کے مقام تک تو انسان بیعت میں شامل رہ سکتا ہے لیکن جب اعتراض کے مقام پر پہنچ گیا تو پھر کوئی بیعت نہیں خواہ تھوڑے اعتراض ہوں یا زیادہ۔سکتا انہی دن ایک شخص کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ وہ لوگوں میں اپنے بعض اعتراضات کا پروپیگنڈہ کرتا ہے جس کے لئے میں نے ایک کمیشن مقرر کیا۔جب کمیشن نے اسے بیان دینے کے لئے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ بیعت کے ذریعہ خلیفہ سے جو تعلق ہو جاتا ہے وہ ایک نازک تعلق ہے اس لئے میں کسی اور کے سامنے بیان دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔انہوں نے مجھے بتلایا کہ وہ شخص یوں کہتا ہے تو میں نے کہا اگر کوئی شخص خط کے ذریعہ بیعت کرے تو کیا وہ کہہ ا ہے کہ چونکہ میں نے بیعت خط کے ذریعہ کی ہے اس لئے خط کے ذریعہ سے ہی جواب دے سکتا ہوں۔جب اس کے متعلق شکایت ہے کہ اس نے دوسرے لوگوں کے سامنے مخالفانہ باتیں کیں تو اگر واقعی وہ اس تعلق کو نازک سمجھتا تھا تو اسے میرے ہی سامنے باتیں بیان کرنی چاہئیں تھیں۔اس صورت میں بے شک سمجھا جاسکتا تھا کہ اس نے اس تعلق کی نزاکت کا خیال رکھا لیکن جب خود اس نے اس رشتہ کو توڑ دیا ہے تو کیا اب میرے منتخب شدہ آدمیوں کے سامنے وہ بات نہیں کر سکتا۔وہ اس کی حماقت تھی یا اس کے دماغ میں نقص تھا۔بہر حال بیعت کا تعلق واقعی نازک ہوتا ہے لیکن جو اس کی نزاکت تو ڑتا ہے وہی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔رسول کریم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص نے ذکر کیا کہ میرے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں لیکن میں ان کو دبا لیتا ہوں پھر پیدا ہوتے ہیں تو پھر میں ان کو دبا لیتا ہوں۔آپ ا نے فرمایا یہی تو ایمان ہے۔لہ پس شک کو دبا دینے کی صورت میں کوئی اعتراض نہیں۔ظاہر کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کی اشاعت کرتا ہے، اور گویا وہ اسی درخت پر تیر چلاتا ہے جس کی حفاظت کی اس نے قسم کھائی تھی۔جو شخص یہ کام کرے اور کہے کہ ابھی میرا ایمان باقی ہے وہ پاگل ہے۔جیسے کوئی مالی