خطبات محمود (جلد 3) — Page 382
خطبات محمود چند موم شادی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ نئی اولاد کے ذریعہ اس حالت کو درست کیا جا سکتا ہے۔جس طرح اگر سالن میں نمک زیادہ ہو تو وہ اس کی موجودہ حالت کا اظہار ہوتا ہے اور ہم اس میں اور پانی ڈلواتے ہیں تو اس لئے کہ اس کی اصلاح ہو جائے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ہر بچہ فطرت اسلامی پر پیدا ہوتا ہے گناہ کی فطرت پر نہیں کیونکہ اسلامی فطرت گناہ کی فطرت کو بے کار کر دیتی ہے اس لئے شریعت ہمیں حکم دیتی ہے کہ اور شادیاں کرو کہ شاید اور پانی پڑنے سے سالن ٹھیک ہو جائے۔آپ لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ بچے کھیلتے ہیں اور ہم بھی جب بچے تھے کھیلا کرتے تھے۔ایک چیز کو تاک کر نشانہ لگاتے تھے ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا حتی کہ مقصد پورا ہو جاتا۔اسی طرح یہ حکم دیا گیا ہے کہ شادیاں کرتے جاؤ اور کرتے جاؤ حتی کہ وہ زمانہ آجائے جس کے لئے دنیا پیدا کی گئی ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں نیکی اور بدی کے دور ہوتے ہیں۔بدی دنیا سے بالکل کبھی نہیں مٹ سکتی لیکن جب صحیح شادی اور صحیح تولید سے وہ زمانہ آجاتا ہے جب بدی کو نیکی ڈھانپ لیتی ہے اور غالب آجاتی ہے تو مقصد پیدائش پورا ہو جاتا ہے۔اس کے بعد پھر خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر اسے ٹھیک کر دیا جاتا ہے۔اس سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے کہ دنیا کی اصلاح کا مقصد اولاد کے ذریعہ پورا ہو سکتا ہے۔آئندہ نسل کے ذریعہ جس طرح نیکی دنیا میں قائم کی جاسکتی ہے اس طرح موجودہ نسل سے نہیں اور جب تک دنیا یہ نکتہ نہ سمجھ لے اس وقت تک قومی طور پر دنیا کی اصلاح نہیں ہو سکتی ہاں انفرادی طور پر ہو سکتی ہے۔رسول کریم اللہ نے یہ نکتہ سمجھایا ہے۔چنانچہ فرمایا جب بچہ پیدا ہو اس کے کان میں اذان کی جائے پھر فرمایا۔محل مَوْلُودِ يُولَدُ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ۔كم ادھر قرآن کریم نے فرمایا کہ ہر نفس جو اللہ تعالیٰ سے آتا ہے وہ زکیہ ہوتا ہے بعد میں دوسرے اسے خاک آلود کر کے گندہ کر دیتے ہیں۔ود اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی اصلاح نئی پور کے ذریعہ سے کی جاسکتی ہے پرانی نسل ذاتی اصلاح تو کر سکتی ہے مگر دنیا کی اصلاح نہیں کر سکتی۔دنیا کی اصلاح ہمیشہ آئندہ نسلوں کے ذریعہ ہی کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے باوجود یہ تسلیم کرنے کے کہ دنیا خراب ہو چکی ہے یہ حکم دیا ہے کہ شادیاں کرو کیونکہ آئندہ نسل موجودہ کی نسبت دنیا کی اصلاح کے زیادہ قابل ہو گی۔