خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 381

محمود ٣٨١ جلد سوم بعض انسانوں سے جنگل کے درندے بھی پناہ مانگیں گے اور دوسری طرف یہ تاکید کرنا کہ نکاح کرو جو نکاح نہیں کرتا وہ عمر کو باطل کرتا ہے بظاہر ایک معمہ نظر آتا ہے۔ایک طرف تو شادی پر اتنا زور ہے مگر دوسری طرف شادی کے نتائج کی اتنی تحقیر ہے اگر شادی کے نتیجہ میں شر البريةِ أُولئِكَ كَالْاِنْعَامِ بَلْ هُم اَمَل۔اور اسد قسوگا ہی پیدا ہوئے تھے۔اگر یہی مخلوق ہے جو شادی کے نتیجہ میں دنیا میں آئی تھی تو ایسی شادی سے تو روکنے کا حکم دینا چاہئے تھا۔اور شاید اسی وجہ سے عیسائیوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ شادی نہ کرنا شادی کرنے سے بہتر ہے کیونکہ شرارت اور بدی کو جس قدر جلد مٹایا جاسکے اتنا ہی اچھا ہے۔ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آخر کیا بات ہے کہ جس سے یہ دو متضاد چیزیں ایک جگہ جمع ہو رہی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کا حل اس منطقی مسئلہ سے ہو جاتا ہے کہ انسان کے اندر اللہ تعالی نے دو طاقتیں پیدا کی ہیں ایک بالفعل اور ایک بالقوة۔ایک وہ جو ظاہر ہو رہی ہوتی ہیں اور ایک کے اظہار کی قابلیت انسان کے اندر ہوتی ہے۔بے شک اس زمانہ کے متعلق بہت سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور ہر نبی کی بعثت سے قبل ایسا ہی زمانہ ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ کی بعثت سے قبل زمانہ کے متعلق بھی سخت الفاظ آتے ہیں جیسا کہ فرمایا ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ - له ابل کتاب بھی خراب ہو گئے اور غیر اہل کتاب بھی۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ اس زمانہ کے لوگ سانپ اور سانپ کے بچے ہیں اور ان کو سٹور اور کتے قرار دیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کتوں کو عام طور پر لوگ مروانا ہی پسند کرتے ہیں سوائے ان کے جن سے کوئی خدمت لیتے ہیں۔میونسپل کمیٹیاں بھی کتوں کو مردانے کا انتظام کرتی ہیں۔پس یہ تین زمانے تو ہمارے سامنے ہیں اور ان زمانوں کے لوگوں کے متعلق جو خطاب ہیں وہ بھی ہمارے علم میں ہیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ اور موجودہ زمانہ کے متعلق خطابات تو قرآن کریم میں موجود ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ آپ نے اپنے زمانہ کے لوگوں کو سئور، کتے، سانپ، سانپ کے بچے اور حرام کار قرار دیا اور اس قسم کی نسل کے ہوتے ہوئے اگر انسان سے کہا جاتا ہے کہ اور نسل پیدا کرو تو ہمیں اس میں یہی حکمت نظر آتی ہے کہ اللہ تعالی نے انسان میں بالقوہ ایسی قابلیتیں رکھی ہیں کہ اگر انہیں درست طور پر استعمال کیا جائے اور صحیح لائنوں میں چلایا جائے تو وہ دنیا کا نقشہ بدل سکتی ہیں جو سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور جن برے خطابات سے یاد کیا گیا ہے وہ اس حالت کا اظہار ہے جو موجود ہے لیکن جو