خطبات محمود (جلد 3) — Page 380
WA۔۹۸ خطبات محمود ابنائے فارس کی اہم ذمہ داریاں (فرموده ۸ مئی ۱۹۳۶ء) مئی ۱۹۳۶ء حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے صاحبزادہ میاں محمد احمد صاحب کا نکاح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کی صاحبزادی سیدہ امتہ الحمید بیگم صاحبہ سے پندرہ ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ایک طرف تو ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی حیات کے سلسلہ کو ایسا ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ رہبانیت ایک بدعت ہے جو عیسائیوں نے جاری کی تھی اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اسلام کے ساتھ رہبانیت کا کوئی تعلق نہیں۔ایک طرف تو نسل انسانی کو چلانے پر اتنا زور دیا گیا ہے کہ شادی نہ کرنے والے کے متعلق رسول کریم نے فرمایا ہے کہ اس کی عمر ضائع ہو گئی اور دنیا سے بھال گیا۔لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی حالت ایسی بھیانک اور ایسی خطرناک ہو رہی ہیں کہ مثلاً اسی زمانہ کے متعلق بعض بزرگوں کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے درندوں نے بھی پناہ مانگی ہے۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالی بعض انسانوں کے متعلق فرماتا ہے۔شر البرية ہے أولئِكَ كَالا نُعَام بَلْ هُمْ أَصل - سے بلکہ حیوانوں سے بھی بد تریعنی الْحِجَارَةِ او است قسُوةٌ - سے پتھر دل بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سنگدل ہیں۔تو ایک طرف انسانوں کی یہ حالت بیان کرنا کہ ان کو حیوانوں سے بھی گرے ہوئے بتانا، بدترین مخلوق قرار دینا اور بزرگوں کا یہ فرمانا