خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 362

خطبات محمود ۳۶۲ جلد سوم پھر وہ مذہب جو یہ کہتا ہے کہ انسان مڑ مڑ کر دنیا میں آتا ہے کبھی چرند بنتا ہے کبھی پرند اور کبھی کسی اور صورت میں دنیا میں آتا ہے وہ بھی اسے حل نہیں کر سکتا۔اسے حل کرنے کے لئے کسی ایسے مذہب کی ضرورت ہے جس کا دعوئی یہ ہو کہ انسان ایک ہی بار دنیا میں آتا ہے اور اس کی غذا سب چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے۔تب میں نے زمین کی طاقتوں پر غور کیا اور سمجھا کہ یہ ہزاروں اقسام کے گھاس اور پھول پھل، حیوانات اور چرند پرند کیوں دنیا میں موجود ہیں، سبزہ کیوں متواتر پہاڑوں پر نکلتا ہے، کیوں پانی ٹپک ٹپک کر چشموں سے گرتا ہے، مختلف انواع و اقسام کے جانور کیوں پیدا ہوتے ہیں یہ سب اس گھڑی کے منتظر ہیں جب انسان انہیں کھا کر اپنے وجود میں جذب کرے تا وہ ابدی زندگی حاصل کرلیں ہر ذرہ بے تابی سے باہر نکلتا ہے کہ انسان مجھے دیکھ لے۔پس یہ چیزیں بے فائدہ نہیں ہیں۔ایک روڑ ہو رہی ہے۔انسان ایک ہی وقت سب کو استعمال نہیں کر سکتا۔باری باری سب اس کی نظر کے سامنے آتے جاتے ہیں اور انسانی جسم میں جذب ہوتے جاتے ہیں اور جو ذرہ روح میں شامل ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالی کی ابدی رحمت کے نیچے آجاتا ہے اور جب تک کائنات کا ذرہ ذرہ انسانی روح میں جذب نہ ہو جائے گا اس وقت تک دنیا ختم نہ ہوگی اس وقت تک یہ کش مکش برابر جاری رہے گی۔جب تک ذرہ ذرہ کو ابدیت حاصل نہ ہو اور جب تک وہ انسان کی روح میں شامل نہ ہو جائے اور جس دن ہر ذرہ کو ابدیت حاصل ہو گئی اس دن سمجھو دنیا نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔یہ دنیا تب تک ہی قائم ہے جب تک انسان بنتا ہے تو دیکھو الحَمدُ لِلَّهِ نَحْمَدُ۔میں کس طرح ہماری توجہ اس طرف پھیری گئی ہے کہ تم دنیا کی کسی چیز کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ یہ حمد الہی کا ذریعہ نہیں ہے۔برے سے برے آدمی کو دیکھ لو۔ابو جہل کو ہی لے لو۔تم کہو گے اس نے کتنا غضب کیا اور کہو گے کہ اللہ تعالٰی نے اسے کیوں پیدا کیا۔اس کے زمانہ میں کوئی مسلمان یہ اندازہ نہ کر سکتا تھا کہ اس کی پیدائش کا کیا مطلب ہے لیکن میں چالیس سال بعد جب وہ عکرمہ کے وجود میں ظاہر ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کا وجود کس قدر ضروری تھا اگر اللہ تعالی ابو جہل کو فتا کر دیتا تو عکرمہ کہاں سے پیدا ہوتا۔پس ابو جہل تو ایک پوسٹ آفس تھا اور درمیان کی گندی چیز کی وجہ سے آگے آنے والی عمدہ چیز تو کوئی فتا نہیں کیا کرتا۔نکی اگر گندی ہو لیکن اس میں سے پانی پاکیزہ آرہا ہو تو اسے تو ڑا نہیں جاتا اور کوئی انسانی نسل ایسی نہیں ہو سکتی جو آدم سے لے کر قیامت تک گندی رہی ہو۔پھر کسی کو کس طرح فضول اور بے کار کہا جاسکتا ہے۔ابو جہل گو