خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 342

خطبات محمود سم ۳ جلد سود نے سلمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا - لو كَانَ الاِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ مِنْ هؤلاء - شے اور بعض جگہ رجال من فارس کے الفاظ آتے ہیں یعنی ایمان اگر ثریا سے بھی معلق ہو جائے گا تب بھی سلمان فارسی کی نسل یعنی اہل فارس میں سے کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے جو ایمان کو دنیا میں قائم کر دیں گے۔اس بہت بڑے فتنے کا ذکر کر کے جس کے سننے کے بعد صحابہ کے ہوش اڑ گئے تھے اور وہ اس قدر خوفزدہ ہوئے تھے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور اس کے فتن کی تفصیلات بیان کیں اور اس کے بعد آپ گھر تشریف لے گئے اور کئی گھنٹے کے بعد جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ صحابہ کے رنگ اڑے ہوئے ہیں اور وہ سخت پریشانی کی حالت میں بیٹھے ہیں۔آپ نے فرمایا۔تم کو کیا ہوا کہ اس طرح گھبرائے ہوئے ہو ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کے بیان نے تو ہماری جانیں نکال دیں ہم نہیں سمجھتے کہ اتنے بڑے فتنے کے بعد ایمان کے بچاؤ کی صورت کیا ہوگی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب دجال آیا اگر اس وقت میں زندہ ہوا تو حَجِيجُهُ - شہ میں تمہاری طرف سے اس سے بحث کروں گا اور اگر میں زندہ نہ ہوا تو ہر ے اس سے بھ مومن اپنی اپنی طرف سے لڑے۔یہ جو فرمایا کہ اگر میں زندہ ہوا تو تمہاری طرف سے اس سے بحث کروں گا در اصل اس سے بھی وہی مراد ہے جو سورہ جمعہ کی آیت و اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ له سے مراد ہے یعنی رسول کریم ﷺ کا بروز کامل۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ اگر اس وقت ایسا شخص مبعوث ہو چکا ہو جسے میرا و جو د کہا جاسکے تو وہ اس دجال کا مقابلہ کرے گا۔ورنہ سوائے اس کے اور کوئی صورت نہ ہوگی کہ مسلمان اس دجال سے لڑ کر مر جائیں۔اس عظیم الشان فتنہ کے مقابلہ کے لئے رسول کریم ﷺ نے یہ پیشگوئی کی ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ اپیل کی ہے کہ میں یہ امید کرتا ہوں کہ جب یہ فتنہ عظیم پیدا ہو گا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے جو تمام قسم کے خطرات اور مصائب کو برداشت کرتے ہوئے پھر دنیا میں ایمان قائم کر دیں گے۔میں سمجھتا ہوں یہ خالی پیشگوئی ہی نہیں بلکہ رسول کریم کی ایک آرزو ہے، ایک خواہش ہے ایک امید ہے اور یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ خدا کا رسول ابنائے فارس سے کیا چاہتا ہے۔اس فتنہ سے خطرات کے لحاظ سے بہت کم، نتائج کے لحاظ سے بہت کم، زمانہ اور اثرات کے لحاظ سے بہت کم، رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی فتنہ