خطبات محمود (جلد 3) — Page 335
خطبات محمود ۳۳۵ جلد سوم سے ملوں مگر تھوڑی دور جاکر خیال آیا کہ یہ شخص مخالف ہے اس نے جھوٹ نہ کہا ہو اور میں کھڑا ہو گیا اور اس سے کہنے لگ گیا کہ کیا تم مجھے خراب کرنا چاہتے ہو۔ہمارے ایسے نصیب کہاں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا ئیں۔مگر اس نے کہا ضرور آئے ہیں آپ جائیں تو سہی۔میں پھر دوڑ پڑا۔الغرض دو تین دفعہ میں نے ایسا کیا حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظر آگئے۔انہوں نے ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا لیکچر سنا ایک اور شخص نے جو ان کے ساتھ تھا انہیں کہا ان باتوں کا کیا جواب ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ باتیں تو ان لوگوں پر اثر ڈال سکتی ہیں جنہوں نے حضرت مرزا صاحب کو دیکھا نہیں ہم نے تو ان کو دیکھا ہے اور جانتے ہیں کہ ان کا چہرہ جھوٹوں والا نہیں۔ان لوگوں کا عشقیہ رنگ تھا۔قاضی امیر حسین صاحب کا ایک اور لطیفہ بھی ہے وہ سمجھتے تھے کہ مجلس لگی ہوئی ہو اور کوئی آئے تو کھڑا ہونا جائز نہیں۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جو عشق اور محبت سے کھڑے ہوں ان کے لئے جائز ہے مگر تکلف سے نہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی رسول کریم ان کے فوت ہونے پر دو ہنٹر اپنے منہ پر مارا ہی تھا۔میرے زمانہ خلافت میں میں نے دیکھا کہ میں جب آتا تو وہ کھڑے ہو جاتے۔میں نے پوچھا یہ کیوں؟ تو کہنے لگے "کی کراں رہیا نہیں جاندا" یعنی کیا کروں رہ نہیں سکتا۔یہ عشقیہ رنگ تھا۔سید غلام حسین صاحب جن کی لڑکی کا نکاح ہے قاضی امیر حسین صاحب کے بھائی ہیں اور پرانے احمدی ہیں۔ملک مولا بخش صاحب بھی میرے بہت دیر سے ملنے والے ہیں اور مخلص ہیں جہاں تک میرا خیال ہے وہ اخلاص میں ترقی کرتے رہے ہیں ان کا بیٹا جس کا نام بھی سعید ہے اور ویسے بھی سعید ہے۔لڑکی کی طرف سے میں خود ولی ہوں اور میں سید غلام حسین صاحب کی لڑکی محمودہ خاتون کے نکاح کا ایک ہزار روپیہ مہر پر سعید احمد صاحب سے اعلان کرتا ہوں۔الفضل (۲۴ جولائی ۱۹۳۴ء صفحه (۲۵) له بخاری کتاب المناقب باب قول النبي ﷺ لو كنت متخذا خليلا له تفسیر در منشور جلد ۳ صفحه ۲۴۲ ه التوبه : ۴۰