خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 320

خطبات محمود ۳۲۰ جلد موم زیادہ سے زیادہ یہ کہ اپنے ملک میں ایسا انتظام کرنا ہے جو امن قائم کرنے والا ہو۔یہ بھی بڑے بڑے لوگوں کے خیالات ہوں گے عام لوگوں کو یہ بھی خیال نہ آتا ہو گا۔پھر جب اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اس وجہ سے وسعت دی کہ وہ اس کی منشاء کے مطابق کام کرنے والے تھے اس وقت ان کی نظر شام اور مصر تک پہنچی۔اس وقت وہ یہ بھی نہ جانتے ہوں گے کہ سپین اور چین کیا چیز ہیں اور کہاں واقع ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں سے کسی کے دل میں تجارت کی خواہش پیدا کی کوئی سفر کرتا ہوا دوسرے ممالک میں پہنچ گیا اور پھر ایسے مسلمان وہیں آباد ہو گئے اور تبلیغ اسلام کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی گئی حتی کہ دنیا کا کوئی براعظم ایسا نہیں جہاں مسلمان نہ پہنچے ہوں۔تازہ تحقیق سے تو یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ امریکہ میں مسلمان حضرت عمر کے زمانہ میں پہنچے اور پھر بحری آمد و رفت کے ذرائع میں نقص کی وجہ سے وہ دوسرے مسلمانوں سے تعلقات نہ رکھ سکے اور منقطع ہو گئے۔بہر حال وہاں پرانی مساجد کے جو انگریزوں کے وہاں جانے سے پہلے کی ہیں نشانات ملے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ مسلمان امریکہ میں بھی گئے۔غرض اللہ تعالی کی طرف سے مومن کے لئے اس قدر ترقیات ہوتی ہیں کہ وہ ان کو اپنے خیال میں بھی نہیں لا سکتا۔اللہ تعالٰی نے دنیوی نعمتوں کو بھی جنت قرار دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَ مِنْ دُونِهَا جَنَّتْنِ۔سے مومن کے لئے دو جنت میں ایک اس زندگی میں اور ایک دوسری زندگی میں اور جنت کے متعلق رسول کریم فرماتے ہیں : لَا عَيْنَ رَأَتُ وَلَا أَذُن سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ - سے کہ ان کو نہ آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا نقشہ آیا اس لئے وہ جنت جو دنیا میں ہے اس میں بھی اس مشابہت کا پایا جانا ضروری ہے یعنی مومن کا جو ارادہ اور خواہش ہو اس سے بہت بڑھ کر اسے حاصل ہو اور وہ اس قدر ہو جسے نہ پہلے اس کی آنکھوں نے دیکھا نہ اس کے کانوں نے سنا اور نہ اس کے دل میں اس کا خیال آیا ہو اسی صورت میں وہ جنت کے مشابہہ ہو سکتی ہے ایسی ترقیات کا ملنا حقیقی ایمان کے نتیجہ میں ضروری ہے۔یہ ترقیات کس طرح ملیں۔یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھی ہیں اور اس قسم کے قومی وعدے جو مومنوں کے متعلق پورے کئے جاتے ہیں ان کی بنیاد دل کی ان کیفیتوں پر ہوتی ہے جن سے انسان خود بھی آگاہ نہیں ہوتے۔رسول کریم اس نے حضرت ابو بکر کے متعلق فرمایا ووو