خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 307

خطبات محمود جلد سوم کے بعد گور نریمن کے نام شاہ ایران کا ایک خط آیا جسے دیکھتے ہی اس نے سمجھ لیا کہ کوئی خاص بات ہے کیونکہ مرنے بادشاہ کی تھی جب اس نے خط کھولا تو وہ پہلے بادشاہ کے لڑکے کی طرف سے تھا اس میں اس نے لکھا تھا۔میں نے اپنے باپ کو اس کے ظلموں کی وجہ سے قتل کر دیا ہے اب میں اس کی جگہ بادشاہ ہوں تم سارے امراء سے میری اطاعت کا اقرار لو۔اس وقت معلوم ہوا کہ اسی تاریخ کو ایران کا بادشاہ قتل کیا گیا تھا جس تاریخ کو رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا۔اسی خط میں اس نے یہ بھی لکھا کہ میرے باپ نے بہت سے ظالمانہ احکام دیے تھے جن میں سے ایک عرب کے مدعی نبوت کے متعلق بھی تھا اس کو بھی میں منسوخ کرتا ہوں۔شله ای وقت سے یمن کے علاقوں میں اسلام کا نور پھیلنا شروع ہو گیا۔تو جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے نا ممکن ہے اسے نقصان اٹھانا پڑے۔البتہ عارضی نقصان بے شک ہوتے ہیں۔پس اگر میاں بیوی اپنے تعلقات میں خدا کی رضاء مد نظر رکھیں اور محض اللہ تعالیٰ کے لئے ایک دوسرے سے معاملہ کریں تو ان کے لئے بھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے مگر جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اور پھر اسے کامیابی نصیب نہیں ہوتی وہ سمجھ لے کہ دو ہی باتیں ہیں یا تو خدا کا قول جھوٹا ہے یا اس کا نفس جھوٹا ہے اور جس چیز کو وہ اطاعت سمجھ رہا ہے اطاعت نہیں۔کون ہے جو خدا کے کسی حکم کو جھوٹا قرار دے سکے۔ہر انسان یہی کہے گا کہ میرے نفس کی غلطی ہے ورنہ اللہ اور اس کے رسول کا فرمودہ بالکل سچا ہے۔الفضل ۷ - اپریل ۱۹۳۱ء صفحہ ۶۲۵) لے فریقین کا علم نہیں ہو سکا له ال عمران : il البقرة : ۱۳۲ ته الفرقان : ۷۵ ه البقرة : ۱۲۵ له النحل : ۹۴ : كه الفاتحه : ۲ شو الفاتحه : ٥ شه الاحزاب : ۷۲ شاه طبری جلد ۳ صفحه ۱۵۷۲ تا ۱۵۷۴ مطبوعہ بیروت