خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 270

خطبات محمود کے سامان نہ تھے۔ہم جو کوٹ کاٹ کر اس کی روٹی بناتے اور وہی رسول کریم اے کو کھلا دیتے۔آج اگر آپ زندہ ہوتے تو ایسی روٹی آپ کو کھلاتے۔شہ گویا حضرت عائشہ رضی اللہ عنما کی بقیہ زندگی میں اگر کوئی چیز لطف دینے والی تھی تو وہ رسول کریم ای کا ذکر ہی تھا۔اور آپ کو ساری زندگی میں یہی خواہش رہی کہ کاش رسول کریم ﷺ کے آرام و آسائش کے لئے آپ مزید قربانی کا موقع پاسکتیں۔یہ خدا کا چنا ہوا جو ڑا تھا جسے ایسی برکت حاصل ہوئی۔اسی طرح اس زمانہ میں ایک جوڑا بابرکت ہوا جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے چنا۔آپ کو خداتعالی نے شادی سے پیشتر اس شادی کے بابرکت ہونے کی اطلاع الہام کے ذریعہ دی۔اس خاندان کے بابرکت ہونے کی خبر دی اور پھر فرمایا آیا دَمُ اسْكُنُ اَنتَ وَزُوجُكَ الْجَنَّةَ 1 یہ شادی کی طرف ہی اشارہ تھا۔اس میں بتایا گیا کہ جیسے آدم کے لئے جنت تھی اسی طرح تیرے لئے بھی جنت ہے مگر اس حوا نے تو آدم کو جنت سے نکلوایا تھا لیکن یہ حواجنت کا موجب ہوگی۔مجھے خوب یاد ہے اس وقت تو برا محسوس ہو تا تھا لیکن اب اپنے زائد علم کے ماتحت اس سے مزا آتا ہے۔اس وقت میری عمر بہت چھوٹی تھی مگر یہ خدا کا فضل تھا کہ باوجودیکہ لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ نہ تھی۔جب سے ہوش سنبھالی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کامل یقین اور ایمان تھا۔اگر اس وقت والدہ صاحبہ کوئی ایسی حرکت کرتیں جو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان کے شایاں نہ ہوتی تو میں یہ نہ دیکھتا کہ ان کا میاں بیوی کا تعلق ہے اور میرا ان کا ماں بچہ کا تعلق ہے بلکہ میرے سامنے پیر اور مرید کا تعلق ہو تا حالا نکہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ نہ مانگتا تھا۔والدہ صاحبہ ہی میری تمام ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔باوجود اس کے والدہ صاحبہ کی طرف سے اگر کوئی بات ہوتی تو مجھے گراں گزرتی۔مثلاً خدا کے کسی فضل کا ذکر ہوتا تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوئی ہے۔اس قسم کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے کم از کم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتاگراں گزرتا۔میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بے ادبی سمجھتا لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس فقرہ سے لذت پاتے تھے کیونکہ وہ برکت اسی الہام کے ماتحت ہوتی کہ یا دَمُ اسْكُنُ انْتَ و زوجُكَ الْجَنَّةَ - ایک آدم تو نکاح کے بعد جنت سے نکالا گیا تھا لیکن اس زمانہ کے آدم کے