خطبات محمود (جلد 3) — Page 271
خطبات محمود جلد سوم لئے نکاح جنت کا موجب بنایا گیا ہے چنانچہ نکاح کے بعد ہی آپ کی ماموریت کا سلسلہ جاری ہوا۔خدا تعالٰی نے بڑی بڑی عظیم الشان پیشگوئیاں کرائیں اور آپ کے ذریعہ دنیا میں نور نازل کیا اور اس طرح آپ کی جنت وسیع ہوتی چلی گئی۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے آدم کے لئے جو جو ڑا منتخب کیا گیا وہ صرف جسمانی لحاظ سے تھا مگر اس آدم کے لئے جو چنا گیا یہ روحانی لحاظ ވ بھی تھا اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔الارواح جنود مجندة کے ارواح میں ایک۔جُنُودُ مُجَنَّدَةٌ دوسرے سے نسبت ہوتی ہے جب ایسی ارواح مل جائیں تو ان کے جوڑے بابرکت ہوتے ہیں۔پس مومن کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرے اور اپنی رائے پر انحصار نہ رکھے۔اسے کیا پتہ ہے کہ جس چیز کو وہ اچھا سمجھتا ہے وہ دراصل بری ہے اور جو اسے بری نظر آتی ہے وہ اس کے لئے اچھی ہے۔میرے لئے آج اس خطبہ کی طرف توجہ دلانے کی وجہ یہ ہے کہ میں بتانا چاہتا ہوں۔ایک جوڑا خدا تعالیٰ نے پہلے چنا تھا اور ایک اب چنا گیا ہے۔اس وقت میں جس نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں اس میں لڑکا اور لڑکی ان دونوں خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جس کے جوڑے کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا۔کیا دَمُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزُوجُكَ الْجَنَّةَ کسی شاعر نے کہا ہے۔گو واں نہیں یہ واں سے نکالے ہوئے تو ہیں کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی اگر کعبہ سے نکالا ہوا بت کعبہ کی نسبت پر فخر کر سکتا ہے تو جو نہ نکالا ہوا ہوا سے تو یقیناً نخر کرنے کا حق حاصل ہے اور جب کہ اتفاق سے نسبت بھی وہی قائم ہے کہ لڑکا اس خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس خاندان کے فرد کو خدا تعالیٰ نے آدم کہا تھا اور لڑکی اس خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس کی خاتون کو خدا تعالیٰ نے حوا قرار دیا اس لئے ہمیں اسے نیک شگون سمجھتے ہوئے اللہ تعالٰی سے امید رکھنی چاہئے کہ وہ اس نکاح کو بابرکت کرے گا۔اور اس جوڑا کو بھی جنت کی زندگی عطا کرے گا۔اس وقت میں مرزا عزیز احمد صاحب کے نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں جو کہ نصیرہ بیگم بنت میر محمد اسحق صاحب سے قرار پایا ہے مرزا عزیز احمد صاحب گو پچھلے عرصہ میں قادیان کم آتے رہے ہیں اور جب آتے بھی ہیں تو بہت کم لوگوں سے ملتے ہیں۔یہ نہیں کہ مجھ سے نہیں ملتے بلکہ باقی جماعت کے لوگوں سے سوائے اپنے چند احباب کے کم ملتے ہیں مگر ساری جماعت کے لوگ ان سے واقف ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام