خطبات محمود (جلد 3) — Page 243
خطبات محمود ۲۴۳ ۶۶ جلد سوم عورت کی حریت کا زمانہ آگیا ہے (فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۲۸ء) ۱۴ مارچ ۱۹۲۸ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محترم صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے سابق مبلغ ماریشس کا نکاح استانی فاطمہ بیگم صاحبہ سے پانچ صد روپے سر پر پڑھا:- خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اس وقت دنیا کے اہم ترین سوالات میں سے ایک سوال عورت اور مرد کے تعلقات کا ہے ایک طرف اس روشنی کو لیں جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل عرب میں نمودار ہوئی اور جس نے انسان کے ذہن میں یہ فکر اور خیال پیدا کرنے کی کوشش کی کہ عورت بھی انسان ہی ہے۔اور دوسری طرف لاکھوں بلکہ اربوں سال کے رسم و رواج کو دیکھو جس پر متواتر عمل کرنے کے باعث یہ یقین کیا جاتا تھا کہ عورت کو مرد کے مساوی حقوق ہرگز حاصل نہیں۔عورت صرف مرد کی خدمت کے واسطے پیدا کی گئی ہے اور مرد کے ساتھ طبیعی یا غیر طبیعی اختلاف پیدا ہو جانے کے بعد بھی عورت کا فرض ہے کہ اس کے نام کو ہی پکڑ کر بیٹھی رہے۔ایک زمانہ تک تو وہ عرب میں چپکنے والی روشنی انسانی افکار میں وہ تغیر پیدا نہ کر سکی جو کرنا چاہتی تھی مگر آہستہ آہستہ اپنا کام کرتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ خیال جو قلوب کی سطح کے نیچے نہیں جاتا تھا انسانی قلوب میں جگہ حاصل کرنے لگا۔عورت اور مرد کے حقوق کا سوال رسول کریم ﷺ کے وقت پیدا ہوا مگر اس وقت انسانی ذہن اور افکار اس کی حکمت کو سمجھنے کے قابل نہیں تھے اس لئے اس کو محض ایک حکم سمجھا گیا اور اس کی حقیقت کو نہ سمجھا جاسکا۔جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کو جو کہ مرچکی ہو اماں اماں کہہ