خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 222

خطبات محمود ۲۲۲ نکاح کا مذہب، اخلاق، تمدن اور طبعی تقاضوں پر اثر (فرموده ۲۵ - اکتوبر ۱۹۲۶ء بعد نماز عصر بمقام مسجد مبارک قادیان) مؤرخہ ۲۵ - اکتوبر ۱۹۲۶ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔انے سید وزارت حسین صاحب ہمراہ صابرہ صاحبہ بنت مولوی منیر الدین صاحب بعوض تین ہزار روپے صریر۔عبد العزيز ابن مکرم عمردین صاحب صریح همراه مسعوده بیگم بنت مولوی محمد علی صاحب بد و ملی بعوض بارہ سو روپے مہر پر۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : نکاح ان ضروریات زندگی میں سے ہے جو انسانی دائرہ عمل کے تین شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔بعض کام دنیا میں صرف ایک ہی شعبہ عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض دو سے اور بعض تین سے اور نکاح اپنی اہمیت کے لحاظ سے ان سب سے جو تعداد میں تین ہیں تعلق رکھتا ہے۔یعنی مذہبی، اخلاقی اور تمدنی۔ان تینوں شعبوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔بلکہ اگر تمدنی شعبہ کو ذرا خصوصیت دے دی جائے اور ایک خاص مفہوم اس سے لے لیا جائے تو یہ شعبے چار ہو جاتے ہیں اور چوتھا شعبہ طبعی شعبہ ہے۔پس نکاح کا ان چاروں شعبوں کے ساتھ تعلق ہے۔مذہب کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے کہ نکاح کے ذریعہ انسان اپنی دینی حالت کو سنوارتا ہے۔اخلاق کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے کہ نکاح کے ذریعہ انسان اپنے اخلاق کی حفاظت کرتا ہے۔تمدن کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے کہ اس کے ذریعہ آپس میں تعلقات بڑھتے ہیں۔طبعی