خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 204

خطبات محمود ۲۰ جلد سوم ہیں جب اپنی لذتوں کے حصول کا ذریعہ پالیتے ہیں تو مردوں کو بھول جاتے ہیں اور شاذ ہی کوئی ہوتا ہے جو مرنے والے کی یاد اپنے دل میں تازہ رکھتا ہے۔لیکن مجھ میں وفاداری اور وفا شعاری کا ایک ایسا جذبہ رکھا گیا ہے کہ میں نے اپنے بچپن کے زمانہ سے اسے محسوس کیا ہے۔اس زمانہ میں جب دوست مجھ سے پوچھا کرتے کہ تم پر کون سی بات سب سے زیادہ اثر کرتی ہے تو میں جواب دیا کرتا تھا۔میں اگر کسی کتاب میں وفاداری کا کوئی واقعہ پڑھوں تو میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر جانے سے باز نہیں رہ سکتیں۔میرے نزدیک کسی کی جدائی اور اس دنیا کے لحاظ سے ہمیشہ کی جدائی کو یاد رکھنا ایک خوشگوار رنج، ایک فرحت پہنچانے والا غم اور ایک مسرت بخش تکلیف ہے۔یہ رنج ہزاروں خوشیوں سے بہتر اور یہ غم ہزاروں فرحتوں سے اچھا ہے۔محبت کا درد، درد نہیں بلکہ ایک دوا ہے۔وفاداری کا صدمہ، صدمہ نہیں بلکہ دل کو صاف کرنے والی ایسی بھٹی ہے جس سے وہ جلا پا کر نکلتا ہے اور انسان کی روح آلائشوں سے پاک ہو کر اس اعلیٰ مقام پر سانس لیتی ہے جہاں کی ہوا نہایت ہی لطیف اور پاک ہوتی ہے۔اگر میرے سپرد ایک جماعت کی امامت نہ ہوتی۔اگر بیوقوفی سے کہو یا ہو شیاری سے ایک کثیر جماعت کی ترقی کا خیال مجھے مد نظر نہ ہو تا تو در حقیقت اب شادی کرنا تو الگ رہا اس کا خیال اور اس کی تحریک بھی میرے دکھے ہوئے دل کے لئے ٹھیس لگانے کا موجب اور تکلیف دہ ہوتی۔مگر میں اللہ تعالٰی کے فضلوں کا امیدوار ہوں اور میں اس کی رحمت سے کبھی نا امید نہیں ہوا۔ود و بارد رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔الارواح جنود مجندة - لے کہ رو میں ایک دوسرے سے وابستہ اور پیوستہ ہوتی ہیں۔یعنی بعض کا بعض سے تعلق ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری روح کو امتہ الحی کی روح سے ایک پیوستگی حاصل تھی۔مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے اور اس کا ذکر کبھی کبھی میں مرحومہ سے بھی کیا کرتا تھا کہ جب شادی کی تو ان پر احسان سمجھ کر کی تھی کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی اس خواہش کو پورا کروں کہ مسیح موعود کے خاندان سے آپ کے خاندان کا خونی رشتہ قائم ہو جائے۔لیکن میں نہیں جانتا تھا یہ میری نیک نیتی اور اپنے استاذ اور آقا کی خواہش کو پورا کرنے کی آرزو ایسے اعلیٰ درجہ کے پھل لائے گی اور میرے لئے اس سے ایسے راحت کے سامان پیدا ہوں گے۔مجھے بہت سی شادیوں کے تجربے ہیں۔میں نے خود بھی کئی شادیاں کی ہیں اور بحیثیت ایک جماعت کا امام ہونے کے ہزاروں شادیوں سے تعلق ہے اور ہزاروں واقعات مجھ تک پہنچتے رہتے ہیں مگر میں نے عمر بھر کوئی ایسی کامیاب اور خوش