خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 187

خطبات محمود JAZ جلد سوم ضروری ہوتا ہے کیونکہ ہر ایک شخص ان ذمہ داریوں اور فرائض کو نہیں سمجھ سکتا جو نکاح کے بعد اسلام کی طرف سے اس پر عائد ہوتے ہیں چونکہ عام طور پر لوگ ان سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں اس لئے آگاہ کیا جاتا ہے۔نکاح کی سب سے بڑی غرض تقوی اللہ ہونی چاہئے۔اسلام کا فخر اور حقیقت یہی ہے کہ تمام امور کو خدا تعالی کی طرف پھیر کر لاتا ہے۔چھوٹی سے چھوٹی بات ہو یا بڑی سے بڑی ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اسے بھی آخر کار خدا کی طرف لے آتا ہے جیسے کھانے کے وقت حکم دیتا ہے کہ بسم اللہ پڑھو، ختم کرنے کے وقت بتاتا ہے کہ الحمد لله کہو، یعنی خدا تعالٰی کو یاد کرتے ہوئے شروع کرو اور یاد ہی کرتے ہوئے ختم کرو۔اسی طرح کپڑے پہنے چلنے پھرنے کے لئے علیحدہ دعائیں ہیں حتی کہ سونے کے وقت کی بھی دعا ہے اس وقت بھی یہی کہا جاتا ہے کہ خدا کو یاد کر کے سود شاید رات کو جان نکل جائے۔غرض ہر وقت ہر گھڑی اور ہر موقع پر اسلام نے خدا تعالی کی طرف توجہ دلائی اور ہر بات میں خدا کا ذکر رکھا ہے۔اگر کسی حالت میں تغیر ہوتا ہے تو بھی خدا کو یاد کرنے کا حکم ہے۔اگر دن کو زوال ہوتا ہے تو بھی خدا کو یاد کرنے کا حکم ہے۔اگر روشنی نمودار ہو تو بھی خدا کو یاد کرنے کا حکم ہے۔غرض ہر فعل میں ہم کو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ خدا تعالی کو مد نظر رکھو۔اسی طرح نکاح میں بھی نبی کریم ﷺ نے ہماری توجہ کو خدا تعالی کی طرف پھیرا ہے کہ نکاح میں تقویٰ اللہ مد نظر رکھو۔نکاح میں کئی غرضیں ہوتی ہیں۔مگر مسلم کی صرف ایک ہی غرض ہوتی ہے کہ خدا تعالی کا تقویٰ حاصل ہو۔شادیاں کا فر بھی کرتے ہیں۔مومن بھی کرتے ہیں۔دونوں کی اولادیں ہوتی ہیں لیکن پھر بھی ان دونوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔مومن کی زندگی صرف خدا کے لئے ہوتی ہے لیکن کافر کی اپنے نفس کے لئے۔پھر نہ صرف نکاح کے وقت ہی تقویٰ اللہ کو مد نظر رکھنے کا حکم ہے بلکہ خاص وقت میں بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلم کو دعا مانگنی چاہئے۔دیکھو اس وقت بھی کہا گیا ہے کہ تم اپنے جوشوں میں بھی خدا کو مت بھولو اور دعا کر لو کہ اے خدا ہم کو اور ہماری اولاد کو شیطان سے بچا۔غرض اسلام کی غرض وحید تقویٰ اللہ ہے اور مومن کو نکاح میں بھی یہی غرض مد نظر ہونی چاہئے۔دنیا میں کئی قسم کی شادیاں ہوتی ہیں۔کوئی جمال کے لئے کرتا ہے، کوئی مال کے لئے، کوئی حسب نسب کے لئے لیکن رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔عليْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يداك - له اے شاگرد