خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 186

جلد سوم TAY ۵۵ نکاح کی سب سے بڑی غرض تقوی اللہ ہے (فرموده ۱۵ مئی ۱۹۲۴ء) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی صاحبزادی امتہ السلام صاحبہ کا نکاح مرزا ر شید احمد صاحب خلف الرشید جناب خان بهادر مرزا سلطان احمد صاحب سے پانچ ہزار روپیہ صریر ہوا۔۱۵۔مئی ۱۹۲۴ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک مجمع کثیر میں مسجد اقصیٰ میں اس نکاح کا اعلان فرمایا : خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔خطبہ نکاح جیسا کہ میں نے بارہا بیان کیا ہے اسلامی اصول کے ماتحت ان فرائض کے بیان کرنے اور ان ذمہ داریوں کے اظہار کا نام ہے جو نکاح کے بعد میاں بیوی اور رشتہ داروں پر عائد ہوتی ہیں اور ان اصولوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے جن کو مد نظر رکھنا میاں بیوی اور دیگر رشتہ داروں کے لئے ضروری ہے خطبہ نکاح رکھا گیا ہے۔مگر بد قسمتی سے جہاں اور کئی باتیں مسلمانوں نے اسلام کی بگاڑ دی ہیں وہاں اس کو بھی بگاڑ دیا ہے۔آج کل خطبہ نکاح کی ایک مقررہ عبارت ہے جو پڑھ دی جاتی ہے اور مقرر الفاظ ہیں جن میں ایجاب و قبول کرایا جاتا ہے مگر یہ خطبہ نکاح نہیں کیونکہ اگر اسی کا نام خطبہ نکاح ہو تا کہ مقررہ الفاظ دہرائے جائیں تو حضرت عمر یہ نہ کہتے کہ جب میں خطبہ نکاح کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو گھبرا جاتا ہوں کہ کیا بیان کروں۔کیا حضرت عمر مقررہ الفاظ کو بھی یاد سے نہ سنا سکتے تھے۔بات یہ ہے کہ نکاح کے موقع کے لئے جو آیات رکھی گئی ہیں ان میں وہ گر ہیں جو نکاح سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کا بیان کرنا