خطبات محمود (جلد 3) — Page 170
لخطبات محمود 12 جلد سوم حسب کی عورت اگر نکاح میں آئے گی تو ہمیں بھی اس کے ذریعہ مال و دولت اور عزت مل جائے گی۔اسی طرح لڑکوں کے متعلق ہے لیکن بعض دفعہ موقع آتا ہے تو یہ امید پوری نہیں ہوتی اور پھر گلے شکوے ہوتے ہیں اس لئے رسول کریم ال کہتے ہیں الْحَمدُ لِله سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔انسانوں میں ایسا وجود جس میں کوئی عیب نہ ہو تلاش کرنا غلطی ہے۔پھر الحمد للہ کے یہ بھی سنے ہیں کہ اللہ تعالی ہی مستحق ہے کہ کسی کی صحیح تعریف کرے چونکہ دوسری شق یہی ہے کہ انسان اپنے ذہن میں کچھ نقشے تجویز کیا کرتے ہیں وہ نقشے پورے نہیں اترا کرتے۔لڑکی کے ماں باپ کہتے ہیں کہ لڑکی خوبصورت ہے اور لڑکے کے خویش و اقارب بھائی اور دوست کہا کرتے ہیں کہ لڑکا بہت خوش خلق ہے مگر بات یہ ہے کہ اپنے کے عیب نظر نہیں آیا کرتے۔مشہور ہے کہ کسی بادشاہ نے اس بات کے تجربہ کے لئے ایک زریں ٹوپی دربار کے ایک حبشی غلام کو دی۔سامنے بہت سے لڑکے کھیل رہے تھے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ان لڑکوں میں سب سے زیادہ جو لڑ کا خوبصورت ہے یہ ٹوپی اسی کے سر پر رکھ دے۔ان لڑکوں میں اس حبشی غلام کا بیٹا بھی کھیل رہا تھا جس کی آنکھیں رید آلود تھیں اور ناک بہہ رہی تھی ناک بیٹھی ہوئی اور ہونٹ موٹے تھے۔وہ حبشی بغیر جھجک کے بڑھا اور وہ ٹوپی اپنے لڑکے کے سر پر رکھ دی درباری ہنس پڑے۔بادشاہ نے کہا میں نے تجھے یہ کہا تھا کہ اس بچے کے سر پر رکھنا جو سب سے زیادہ خوبصورت ہو۔حبشی غلام نے جواب دیا کہ حضور میں نے اس کے سر پر رکھی ہے جو میرے نزدیک سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ اپنوں کے عیب نظر میں نہیں آتے اور یہ فطرتی بات ہے کہ انسان اپنوں کے عیب دیکھتا نہیں سوائے ان روحانی لوگوں کے جو روحانیات میں بہت کمال حاصل کر لیتے ہیں ورنہ محبت اور تعلق انسان کی آنکھ پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔یہ صحیح نہیں کہ وہ جھوٹ ہی کہتے ہیں۔نہیں بلکہ وہ سنجیدگی سے ایسا کیا کرتے ہیں اور ان کے قلوب میں یہی جذبات ہوتے ہیں۔• اور پھر پسندیدگی کا معیار بھی الگ الگ ہوتا ہے۔کوئی زیادہ نمک پسند کرتا ہے کوئی کم۔کوئی سفید رنگ کو پسند کرتا ہے کوئی چلبلی طبیعت کو ترجیح دیتا ہے۔پس اگر لڑکی والے کہتے ہیں کہ