خطبات محمود (جلد 3) — Page 161
خطبات محمود 141 ۴۹ چند موم نکاح کے معاملہ میں ہمیشہ دین مد نظر ر کھیں (فرموده ۲۱ اکتوبر ۱۹۲۲ء) ۲۱- اکتوبر ۱۹۲۲ء بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے میاں عبد السلام صاحب خلف حضرت خلیفہ المسیح الاول کا نکاح جناب چوہدری ابوالہاشم صاحب ایم۔اے انسپکٹر سکولز بنگال کی لڑکی محمودہ سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : نکاح اور شادی کے معاملات ہمیشہ ہوتے ہی رہتے ہیں اور اگر نکاح شادیاں نہ ہو تیں تو دنیا کی یہ حالت بھی نہ ہوتی مگر پھر بھی ہر انسان کی خوشی اور راحت کا اثر جدا ہوتا ہے۔ایک شادی ایک انسان کے دل میں اور احساس پیدا کرتی ہے دوسرے کے دل میں اور ایک ڈاکو جس نے ملک میں فتنہ و فساد مچایا ہوتا ہے اور ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہوتا ہے وہ مرتا ہے تو لوگ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اچھا ہوا مر گیا۔لیکن اس کے گھر کے لوگوں کی نظر میں وہ ایک ڈاکو کی حیثیت میں نہیں ہو تا بلکہ ان کے لئے چونکہ وہ ذریعہ معاش ہوتا ہے اور اس سے ان کے بہت سے تعلقات اور آرام وابستہ ہوتے ہیں اس لئے وہ اس کے مرنے پر غم میں بتلاء ہو جاتے ہیں۔اسی طرح ایک شخص جو کسی جماعت کے لئے بطور محمود کے ہوتا ہے اور اس کی ذات پر جماعت کی ترقی اور تنزل کا انحصار ہوتا ہے اس کی موت پر اس جماعت میں ماتم ہوتا ہے۔مگر وہ لوگ جو اس جماعت سے تعلق نہیں رکھتے ان کے لئے اس کی موت کچھ بھی اہمیت اور اثر نہیں رکھتی۔یہی شادی کا حال ہوتا ہے جن کے ہاں شادی ہوتی ہے وہ تیا ریاں