خطبات محمود (جلد 3) — Page 148
خطبات محمود ۱۴۸ جلد سوم متعلق یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ان کے طریق پر عمل کیا جانا چاہئے اور ایسے لوگ پانچ چھ سے زیادہ نہیں ہوتے۔ان کے متعلق پڑھا ہے کہ سارا سال پرانی پرانی تاریخیں پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان زمانوں میں کسی قسم کا لباس پہنا جاتا تھا۔اور مختلف لباسوں کے ٹکڑے لے کر ایک چیز تیار کرتے ہیں اور تجویز کرتے ہیں کہ ایسی ٹوپی ہو سکتی ہے یا ایسی عجیب گاؤن (GOWN) ہو سکتی ہے ایسے لوگ جو کچھ مقرر کرتے ہیں۔لوگ ان کی اتباع کرتے ہیں۔مگر عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کی زندگیوں کو خراب کر دیا کہ وہ تمام عمر اسی فیشن کی ایجاد و تلاش میں رہیں ان کی تو مانی جاتی ہے ان لوگوں کی طرف توجہ نہیں کی جاتی جو مستحق ہیں کہ ان کی بات پر عمل کیا جائے۔میں نے بتایا ہے کہ جس طرح اس ظاہری لباس کے فیشن کی ایجاد کے لئے چند لوگ ہوتے ہیں روحانی زندگی کے فیشن کے لئے بھی چند لوگ ہوتے ہیں۔یہ غلط خیال ہے کہ فیشن عام لوگوں کے رواج کا نام ہے۔بلکہ فیشن کے موجد عام لوگ نہیں ہوتے۔اسی طرح روحانی زندگی میں بہت سے لوگوں کی پیروی نہیں کی جاتی بلکہ چند کی اور وہ انبیاء ورسل اور اولیاء ہوتے ہیں۔حیرت ہے کہ لباس میں تو فیشن کی پیروی کی جاتی ہے۔مثلاً ایک زمانہ میں غرارہ عورتیں پہنتی تھیں لیکن اگر اب کوئی پہن لے تو دوسری عورتیں اس کا ناک میں دم کر دیں۔یا ہندوستان میں کئی ٹوپیاں مروج ہیں۔پنجاب میں ان کا رواج نہیں ہے۔اگر کوئی پہنے تو لوگ اس پر پھبتیاں اڑائیں۔غرض لباس میں تو فیشن مقرر کرنے والوں کی طرف دیکھا جاتا ہے مگر روحانیت میں ایسا نہیں کیا جاتا بلکہ الٹی جہلاء کی پیروی کی جاتی ہے۔مثلاً شادی کا معاملہ ہے اگر یہ دیکھا جائے کہ خدا اور اس کے رسول اور اولیاء نے کیا طریق مقرر کیا ہے۔تو ان کو زندگی کی مصیبتوں سے نجات ہو جائے۔مگر لوگ اس کی پابندی نہیں کرتے۔قرآن کریم میں اس کے متعلق آتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ، سه مومن کو چاہئے کہ وہ آج جو کچھ لوگ اس کو کہتے ہیں اس بارے میں اس کی فکر نہ کرے۔اگر لوگ آج اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے شادی میں یہ نہیں کیا اور وہ نہیں کیا تو اس کی پرواہ نہ کرے بلکہ اپنی کل کو محفوظ کرے۔اگر کوئی آج ہنستا ہے اور کل اس کو رونا پڑے گا تو ایسے ہننے کو اس پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا نہ اس کا کچھ نقصان ہے۔پس مومن کو چاہئے کہ زندگی کا فیشن مقرر کرنے کے لئے ان لوگوں پر نظر کرے جو اس