خطبات محمود (جلد 39) — Page 67
$1958 67 خطبات محمود جلد نمبر 39 کسی نہ کسی طرح جمع ہو گیا تھا۔اب ڈیڑھ لاکھ کہاں سے آئے گا۔اس کے لیے میں نے جماعت میں اعلان کر دیا کہ جو چاہے زمین خرید سکتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے جماعت کو اتنی ہمت دی کہ اس میں سے ایک لاکھ سے زائد کے گاہک بن گئے اور باقی روپیہ کا ہم نے خود انتظام کر لیا اور اس طرح وہ محلہ بھی خرید لیا گیا۔تو اللہ تعالیٰ جب دینے پر آتا ہے تو اس طرح دیتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكُلِي وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاهَالِـي دیکھو جب رمضان آتا ہے تو لوگ لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ‘ہی کھاتے ہیں یعنی سارا دن بھوکے رہتے ہیں۔صبح کے وقت جو روٹی انہیں مل جائے کھالیتے ہیں لیکن جب عید آتی ہے تو وَ صِرتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاَهَالِی والا نظارہ ہوتا ہے۔اُس دن خدا تعالیٰ کھلانے پر آ جاتا ہے۔رمضان کے دنوں میں تو کہتا ہے کہ خبردار! جس نے دن کے وقت کھانا کھایا میں اُسے سزا دوں گا اور عید کے دن کہتا ہے کہ جس نے نہ کھایا میں اُسے سزا دوں گا۔گویاوہی صورت ہو جاتی ہے کہ لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكُلِى وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاهَالِي پہلے تو غریبوں کا سا کھانا دیا جاتا تھا اور عید کے دن امیروں کا سا کھانا میسر آ جاتا ہے۔سحریاں بھی امیروں کی ہی ہوتی ہیں ورنہ غریبوں کا کیا ہے۔انہیں تو جو معمولی چیز بھی مل جائے اُس سے روزہ رکھ لیتے ہیں۔مجھے یاد ہے بچپن میں ایک عورت مجھے کھلایا کرتی تھی۔وہ ایک دن مجھے ایک کمرہ میں کھلاتی جاتی تھی اور ساتھ ساتھ ایک باسی روٹی کا ٹکڑا جو اُس کے ہاتھ میں تھا وہ کھاتی جاتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ وہ باسی روٹی مجھے اس وقت اتنی بڑی نعمت معلوم ہوتی تھی کہ اگر آج دنیا کی ساری کی نعمتیں بھی مجھے مل جائیں تو مجھے اُن میں وہ مزہ نہ آئے جتنا اُس باسی روٹی کے ٹکڑے کی خوشبو میں آتا تی تھا۔تو غریب کو تو باسی روٹی بھی مل جائے تو وہ سمجھتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے جو مجھے میسر آ گئی۔اسی طرح شام کو روزہ کھلتا ہے تو جو لوگ آسودہ حال ہوتے ہیں وہ تو افطاری کے لیے قسم قسم کی چیزیں بناتے ہیں لیکن غریب لوگ پانی کے ایک گھونٹ سے ہی روزہ کھول لیتے ہیں۔آخر یہی چیز خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ تو کھانے والا نہیں، کھاتے تو ہم ہیں مگر ہمارے کھانے کو خدا تعالیٰ