خطبات محمود (جلد 39) — Page 32
$1958 32 32 خطبات محمود جلد نمبر 39 زین العابدین بیمار پڑا ہوا تھا اور دین کی مدد کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔انہوں نے چاہا بھی کہ اپنی بیماری میں اٹھ کر کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کی مدد کریں مگر امام حسین نے کہا میرے بیٹے کو سنبھالو۔اس کو اُٹھنے نہ دو۔چنانچہ ان کی پھوپھی زینب آئیں اور انہوں نے کہا کہ صبر سے کام لے۔تیرے باپ کا یہی حکم ہے کہ تجھے لٹایا جائے اُٹھنے نہ دیا جائے۔اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر طرف کفرست جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین یعنی جس طرح کربلا کے میدان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے صرف ستر آدمی تھے اور باقی سینکڑوں ہزاروں سپاہیوں کی رجمنٹیں (REGIMENT) ایک مشہور جرنیل کے ماتحت یزید کی طرف سے اُن کو گھیرے ہوئے تھیں اُسی طرح آجکل اسلام کی حالت ہے کہ چاروں طرف سے یزیدی فوجوں کی طرح لوگ اس پر چڑھے آ رہے ہیں اور اسلام کی حالت ایسی ہی ہے جیسے زین العابدین بیماری میں تڑپ رہے تھے اور اپنے باپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔ہمارے روحانی باپ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس لیے اس کے معنے یہ ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں اگر ایمان ہوتا ہے تو وہ تڑپتے ہیں کہ اپنے حقیقی روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کر میں لیکن وہ بیمارو بیکس ہیں یعنی ان میں طاقت نہیں کہ مقابلہ کر سکیں۔نہ پیسہ ان کے پاس ہے، نہ پر لیں ان کے پاس ہے، نہ فوجیں ان کے پاس ہیں ، نہ حکومتیں ان کے پاس ہیں عیسائی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گند اچھالتے ہیں مگر ان کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ جواب دے سکیں۔اب ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ اس کے افراد یورپ اور امریکہ اور افریقہ اور انڈونیشیا وغیرہ میں اسلام کی اشاعت کر رہے ہیں مگر کام کی وسعت کے مقابلہ میں ہماری جدو جہد ایسی ہی ہے جیسے کوئی چڑیا سمندر میں سے چونچ بھر کر پانی پہیے۔عیسائیوں کی طاقت کے مقابلہ میں نہ ہمارے پاس کوئی طاقت ہے اور نہ اُن کے مبلغوں کے مقابلے میں ہمارے مبلغوں کی تعداد کوئی حقیقت رکھتی ہے۔رومن کیتھولک پادریوں کی تعداد ہی اٹھاون ہزار ہے اور ہمارے مبلغ تین سو بھی نہیں۔ایک دفعہ وکالت تبشیر نے مجھے رپورٹ پیش کی تھی کہ مقامی جماعتوں کے مبلغ ملا کر ہمارے گل