خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 26

خطبات محمود جلد نمبر 39 26 $1958 میں نے اپنے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے کہا ہے کہ ٹھٹھہ میں میری کچھ زمین ہے میں اُس زمین میں سے دس ایکڑ تبلیغ کے لیے وقف کر دوں گا مگر یہ میری غلطی تھی۔چودھری صاحب نے بتایا ہے کہ ٹھٹھہ کی زمین ابھی پوری طرح اُن کے قبضہ میں نہیں آئی۔دوسرے زمین ایسی جگہ ہے جو ایک طرف ہے اور وہاں آبادی کم ہے اس لیے وہاں کسی مبلغ کا رہنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ میرا مطلب یہ تھا کہ لا بینی (ضلع حیدر آباد ) میں جو میری زمین ہے اُس میں سے میں دس ایکڑ اس غرض کے لیے وقف کر دوں گا۔میرا بھی منشا ہے کہ میں بھی اپنی زمین میں سے کسی جگہ دس ایکڑ اس غرض کے لیے وقف کروں۔اس طرح یہ دو وقف ہو جاتے ہیں۔ایک باندھی (سندھ) کے رئیس حاجی عبدالرحمان صاحب ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ میری زمین میرے غیر احمدی کی رشتہ داروں سے مشترک ہے اُس کو تو میں تقسیم نہیں کر سکتا مگر میں یہ کر دوں گا کہ دس ایکڑ زمین خود خرید تی کر دے دوں۔اس طرح تین وقف ہو گئے۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ میرے پاس دو مربع زمین ہے۔اُس میں سے جتنی زمین کی ضرورت ہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ایک اور دوست نے لکھا ہے کہ مجھے فوجی خدمات کی وجہ سے ایک مربع زمین ملی ہے۔میں وہ زمین اس غرض کے لیے وقف کرتا ہوں۔اس کو تو میں نے لکھا ہے کہ میں اس طرح ساری زمین لینے اور تمہیں روزی سے محروم کرنے کے لیے تیار نہیں۔تم اس میں سے دس ایکڑ زمین ہمیں مقاطعہ پر دے دینا۔اس میں ہم اپنا مبلغ رکھیں گے۔غرض اب تک پانچ زمینیں بھی آچکی ہیں۔ملتان والے بھی کہہ گئے تھے کہ دو تین جگہیں ہمارے ضلع میں بھی مل جائیں گی کیونکہ بہت سے مربعوں والے ہمارے علاقہ میں ہیں اور بڑے بڑے زمیندار ہیں۔اگر وہ ایک ایک ایکڑ بھی دیں تو کافی جگہیں ہو جائیں گی۔لیکن بڑی چیز جو ان علاقوں میں کام دے سکتی ہے وہ دیسی طب ہے۔چودھری صاحب نے بتایا کہ ان کے رشتہ کے بھائی (یعنی ماموں کے بیٹے ) جو ان کی زمینوں پر لا بینی میں کام کرتے ہیں انہوں نے سُنا یا کہ باوجود یکہ لا بنی ایک جنگل سا ہے پھر بھی امریکن عیسائی وہاں آکر رہتے ہیں اور عیسائیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور وہ ایسے لوگوں میں رہتے ہیں کہ گو وہ ہمارے مزارع ہیں لیکن اگر وہ ہمیں بھی بلائیں تو ہم بھی اُن کے گھروں میں نہ جائیں لیکن وہ رات دن وہیں رہتے ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں۔یہی قربانی کی روح ہمیں بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔اگر اسی قسم کی قربانی کی روح ہم میں