خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 283

283 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 بندوں کے مرنے کے بعد بھی رب العالمین رہے گا کیونکہ وہ موت کے بعد بھی مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو نیک لوگ ہوں گے اُن کو جنت میں لے جائے گا اور اُن کی ربوبیت کرے گا۔پھر فرماتا ہے الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ 4- خدا ساری تعریفوں کا کیوں مستحق ہے؟ اس لیے کہ وہ رحمان ہے۔رحمان کے معنی ہیں ایسی وسیع مدد کرنے والا جس میں کسی فرقہ بندی کا خیال تک نہ ہو۔گو یہ لفظ بھی رب العالمین کی تشریح کرتا ہے لیکن الرَّحِيمِ کا لفظ بتاتا ہے کہ یہ مدد ہمیشہ جاری رہے گی کیونکہ رحیم میں لمبائی پائی جاتی ہے اور رحمان میں چوڑائی پائی جاتی ہے۔گویا رحمانی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ کا قائم مقام ہے اور رحیم سُبحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کا قائم مقام ہے۔یعنی رحیمیت اگلے جہاں تک بھی ممتد ہے۔پھر فرماتا ہے مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ 5 یعنی انجام خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے تا کہ انسان کسی دوسرے پر نا جائز بختی نہ کرے۔اگر انجام بندہ کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ دشمن کو مار ہی کی ڈالتا اور اُس پر بالکل رحم نہ کرتا۔چنانچہ دیکھ لو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اپنے دشمنوں کو معاف کر دو۔اگر اُس وقت انسانوں کی بات مانی جاتی تو صحابہ کہتے سب مکہ والوں کو قتل کر دو مگر خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہم نے تم کو سخت دل نہیں بنایا تم انہیں لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر معاف کر دو۔جنگ حسین میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا وہ آپ نے مکہ والوں میں تقسیم کر دیا۔اس پر ایک منافق نے کہا کہ آپ نے تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا۔حضرت عمر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے يَا رَسُولَ اللہ ! اگر اجازت ہو تو اس کا سرکاٹ دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں۔مجھے خدا تعالیٰ نے اس کی اجازت نہیں دی 7 اور پھر خدا تعالیٰ کے علاوہ دنیا کا بھی تو خیال کرو اگر میں نے اس کو قتل کرا دیا تو لوگ کہیں گے یہ اچھا رسول ہے جو اپنے ساتھیوں کو مارتا پھرتا ہے۔غرض اگر انجام لوگوں کے اختیار میں ہوتا تو وہ اپنے مخالفین کو مارڈالتے۔حضرت ابوبکر کا ایک بیٹا جو بعد میں مسلمان ہوا تھا ابتدا میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑتا رہا۔جنگ بدر میں وہ کفار کی طرف سے جنگ میں شامل ہوا تھا۔اس نے ایک دفعہ حضرت ابو بکر سے کی کہا کہ آپ ایک دفعہ لڑائی کرتے کرتے میرے پاس سے گزرے تھے۔اُس وقت میں ایک پتھر کی اوٹ میں تھا، اگر میں چاہتا تو آپ کو مارسکتا تھا لیکن مجھے خیال آیا کہ اپنے باپ پر وار نہیں کرنا چاہیے۔