خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 282

$1958 282 خطبات محمود جلد نمبر 39 عشاء کی چھ رکعتیں اور تین وتر ہیں اور آٹھ رکعتیں نماز تہجد کی ہیں۔یہ کل چونتیس رکعات بنتی ہیں جن کی میں سورۃ فاتحہ روزانہ پڑھی جاتی ہے۔گویا اس سورۃ کی عظمت اس بات سے ظاہر ہے کہ مسلمان اسے روزانہ چونتیس بار پڑھتا ہے۔اس سورۃ کی پہلی آیت اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 2 میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کامل اور ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے۔وہ کیوں کامل اور ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے؟ اس لیے کہ وہ رب العالمین ہے یعنی سارے جہانوں کا رب ہے۔اگر وہ صرف مسلمانوں کا رب ہو تو ایک عیسائی اُس کی کیوں تعریف کرے گا؟ ایک یہودی اُس کی کیوں تعریف کرے گا ؟ ایک ہندو اور سکھ اس کی کیوں تعریف کرے گا؟ خدا تعالیٰ کامل اور ہر قسم کی تعریفوں کا اسی صورت میں مستحق ہوگا جب وہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، یہودی، بدھ ، بہائی اور دوسرے سب مذاہب کے لوگوں پر احسان کرے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے كُلًّا تُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاء مِنْ عَطَاءِ رَبَّكَ ، وَمَا كَانَ عَطَاءِ رَبَّكَ مَحْظُورًا 3 یعنی هم خاص فریق کی مدد نہیں کرتے بلکہ دنیا میں جتنے مذاہب اور اقوام ہیں اُن سب کی مدد کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی مدد کسی صورت میں بھی رو کی نہیں جاتی۔چنانچہ کون شخص ہے جو خدا تعالیٰ کی مدد کو روکتی سکے؟ ایک مسلمان با وجود اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے یہ جرات نہیں کر سکتا کہ یہ دُعا کرے کہ اے اللہ ! تو ہندوؤں کی مدد نہ کر۔اور اگر وہ کہے بھی تو خدا تعالیٰ اس کی کیوں سنے گا؟ وہ عیسائیوں کو بھی رزق دیتا ہے، وہ ہندوؤں کو بھی رزق دیتا ہے ، وہ سکھوں کو بھی رزق دیتا ہے بلکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں یعنی مکہ اور خیبر کے رہنے والوں کو بھی رزق دیا کی کرتا تھا ، مدینہ کے یہودی بھی آپ کی مخالفت کیا کرتے تھے لیکن وہ اُن کی بھی دنیوی مددکرتا تھا اور اس کی امر کی پروا نہیں کرتا تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں۔وہ یہی سمجھتا تھا کہ یہ بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہوں لیکن میرے بندے ہیں، اگر میں ان کی مدد نہ کروں تو میں رب العالمین نہیں ہوسکتا۔غرض خدا تعالیٰ ہر ایک کی مدد کرتا رہا ہے، کرتا ہے اور قیامت تک کرتا رہے گا جی کیونکہ وہ رب العالمین تھا، رب العالمین ہے، اور قیامت تک رب العالمین رہے گا۔اور جب وہ قیامت تک رب العالمین رہے گا تو قیامت تک جتنے بھی فرقے نکلیں گے وہ اُن کی مدد کرے گا بلکہ وہ