خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 220

220 $1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 سید نہ تھے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد تھے اور ایسے مخلص تھے کہ انہوں نے آپ کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے سے ذرا بھی دریغ نہیں کیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوای فرمایا تو مکہ والوں نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔جب آپ سجدہ میں گئے تو بعض شریروں نے آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھڑی لا کر رکھ دی اور چونکہ وہ بڑی بھاری تھی آپ سجدہ سے سر نہ اُٹھا سکے۔حضرت فاطمہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ روتی ہوئی آئیں اور انہوں نے آپ کی پیٹھ پر سے اوجھڑی ہٹائی۔13 اسی طرح ایک دفعہ کفار نے آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر زور سے کھینچنا شروع کیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ دوڑے ہوئے آئے اور آپ نے اُن کفار کو ہٹایا اور کی فرمایا اے لوگو ! تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا کہ تم ایک شخص کو محض اس لیے مارتے پیٹتے ہو کہ وہ کہتا ہے اللہ میرا رب ہے۔14 وہ تم سے کوئی جائیداد تو نہیں مانگتا۔پھر تم اُسے کیوں مارتے ہو؟ صحابہ کہتے ہیں ہم اپنے زمانہ میں سب سے بہادر حضرت ابوبکر کو سمجھتے تھے کیونکہ دشمن جانتا تھا کہ اگر میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارلیا تو اسلام ختم ہو جائے گا اور ہم نے دیکھا کہ ہمیشہ ابوبکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوتے تھے تا کہ جو کوئی آپ پر حملہ کرے اُس کے سامنے اپنا سینہ کر دیں۔چنانچہ جب بدر کے موقع پر کفار سے مڈھ بھیڑ ہوئی تو صحابہ نے آپس میں مشورہ کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک عرشہ تیار کر دیا اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رَسُولَ اللہ ! آپ اس عرشہ پر تشریف رکھیں اور ہماری کامیابی کے لیے دعا کریں دشمنوں سے ہم خود لڑیں گے۔پھر انہوں نے کہايَا رَسُولَ اللہ ! ہم آپ کو یقینی دلاتے ہیں کہ گو ہمارے اندر بھی اخلاص پایا جاتا ہے مگر وہ لوگ جو مدینہ میں بیٹھے ہیں وہ ہم سے بھی زیادہ مخلص اور ایماندار ہیں۔انہیں پتا نہیں تھا کہ کفار سے جنگ ہونے والی ہے ورنہ وہ لوگ بھی اس کی لڑائی میں ضرور شامل ہوتے۔يَا رَسُولَ الله! اگر خدانخواستہ اس جنگ میں ہمیں شکست ہو تو ہم نے ایک تیز رفتار اونٹنی آپ کے پاس باندھ دی ہے اور ابو بکر کو آپ کے پاس کھڑا کر دیا ہے۔ان سے زیادہ بہادر اور دلیر آدمی ہمیں اپنے اندر اور کوئی نظر نہیں آیا۔يَا رَسُولَ الله ! آپ فوراً ابوبکر کے ساتھ اس اونٹنی پر بیٹھ کر مدینہ تشریف لے جائیں اور وہاں سے ایک نیا لشکر کفار کے مقابلہ کے لیے لے