خطبات محمود (جلد 39) — Page 221
$1958 221 خطبات محمود جلد نمبر 39 ئیں جو ہم سے بھی زیادہ مخلص اور وفادار ہو گا۔15 اس واقعہ سے اندازہ لگالو کہ ابو بکر کتنی قربانی کرنے والا انسان تھا۔مگر پھر ابو بکر کے ایک بیٹے نے ہی حضرت عثمان پر حملہ کیا۔گو ابو بکر کی نیکی کی وجہ سے وہ بچ گیا اور اُس نے اپنا قدم پیچھے ہٹا لیا۔چنا نچہ جب حضرت عثمان نے اسے کہا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تیرا باپ اس جگہ موجود ہوتا تو وہ ایسی حرکت نہ کرتا تو اُس کا ہاتھ کانپ گیا اور وہ نادم ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔مگر پھر وہ لوگ جو حملہ کرنے کے لیے مصر سے آئے ہوئے تھے اور جو درحقیقت عبداللہ بن سبا یہودی کے مُرید تھے اُن میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے حضرت عثمان پر حملہ کر دیا۔یہ لوگ ایسے ظالم تھے کہ حضرت عثمان کی بیوی آپ کو بچانے کے لیے آگے آئیں تو اُس نے اُن پر بھی تلوار چلا دی جس سے اُن کی تین انگلیاں گٹ گئیں 16۔اُس وقت حضرت عثمان کی بیوی نے اُن سے کہا کہ اے لوگو! تمہاری شرافت کو کیا ہوا ؟ عرب لوگ تو عورتوں کا بڑا لحاظ کیا کرتے تھے۔اس پر وہ خبیث کہنے لگا کہ آگے سے ہٹ جاور نہ ہم تیری گردن بھی اُڑا دیں گے۔اب دیکھو یہ انہیں لوگوں کی اولاد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کے لیے بڑی بھاری قربانیاں کی تھیں مگر جب ان کی انگلی نسل میں نو رایمان باقی نہ رہا تو خدا تعالیٰ کی نصرتہ بھی جاتی رہی اور وہ لوگ تباہ ہو گئے۔اس نظارہ کو دیکھتے ہوئے ہم کیا اُمید کر سکتے ہیں کہ قیامت تک ہماری نسلیں خدا تعالی کی کی فرمانبردار رہیں گی اور کبھی ان میں دنیا داری نہیں آئے گی ؟ دنیا داری تو اتنی جلدی آ جاتی ہے کہ ایک دفعہ ہماری مجلس شوری کا اجلاس ہورہا تھا کہ ایک احمدی دوست کھڑے ہو گئے۔وہ اُن دنوں حصار میں تھے۔اُن کے بھائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے اور اب اُن کے بیٹے ڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور کہنے لگے کہ خلافت کا کیا فائدہ ہوا؟ میرے متعلق ایک کیس کے سلسلہ میں انکوائری ہو رہی ہے۔خلیفہ صاحب کو چاہیے کہ وہ جائیں اور گورنر کے پاس میری سفارش کریں۔میں نے اُن کے جواب میں کھڑے ہو کر کہا کہ میں ایسی خلافت پر لعنت بھیجتا ہوں۔اگر خلافت کے یہی معنے ہیں کہ میں ان کے لیے گورنر کے پاس جا کر بھیک مانگوں تو میں اس کے لیے تیار نہیں۔وہ آدمی نیک تھے۔میرے اس جواب پر انہوں نے کھڑے ہو کر معافی مانگ لی اور کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔