خطبات محمود (جلد 39) — Page 180
خطبات محمود جلد نمبر 39 180 $1958 وقف جدید کے ماتحت بہت سے نوجوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے مگر ابھی تک میں اُن کے کام سے پوری طرح خوش نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی اُن کو کام شروع کیے بھی پانچ چھ مہینے ہی ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے کام میں ابھی تیزی پیدا نہیں ہوئی۔اگر ایک دو سال گزر جائیں تو پھر ان کے کام کا صحیح اندازہ ہو سکے گا۔اس وقت تک وقف جدید کے ذریعہ ایک سو چالیس بیعتیں ہو چکی ہیں لیکن میرے نزدیک فی مبلغ ایک ہزار سالانہ بیعت ہونی چاہیے۔آجکل وقف جدید میں ستر آدمی کام کر رہے ہیں۔اگلے سال ممکن ہے یہ تعداد ایک سو پچاس تک پہنچ جائے اور پھر ڈیڑھ دو لاکھ سالا نہ صرف وقف جدید کے معلمین کے ذریعہ ہی بیعت ہونے لگے۔اگر ایسا ہو جائے تو پانچ سال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری تعداد کئی گنے بڑھ سکتی ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ ہی سب کام کرنے والا ہے۔ہمارا کام تو صرف کوشش اور جد و جہد کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہا ما فر مایا تھا کہ ” میں تیری تبلیغ کو زمین کی کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔چنانچہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچ چکی ہے۔مگر ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچ چکی ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری جماعت کو اس قدر ترقی عطا فرمائے گا کہ دوسرے مذاہب کے پیرو اس جماعت کے مقابلہ میں ایسے ہی بے حیثیت ہو کر رہ جائیں گے جیسے آجکل کی ادنی اقوام بے حیثیت ہیں۔پس ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ زمانہ بھی دکھا دے جب ہماری جماعت ساری دنیا پر غالب آ جائے بلکہ اس سے بڑھ کر ہماری یہ دُعا ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو کی غلبہ بھی عطا فرمائے اور دوستوں کو اپنے ایمانوں پر بھی قائم رکھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں جب مسلمان ایمان پر قائم تھے روم اور ایران کے بادشاہ ان کے نام سے کانپتے تھے مگر جب اُن کے اندر ایمان نہ رہا تو ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا اور انہیں تباہ کر دیا۔اب بھی مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں مگر ادھر وہ امریکہ سے ڈر رہے ہیں اور ادھر روس سے خوف کھا رہے ہیں۔کبھی امریکہ سے کہتے ہیں کہ ہماری جھولی میں کچھ ڈالو اور کبھی روس کی طرف اس امید سے دیکھتے ہیں کہ شاید وہ ان کی جھولی میں کچھ ڈال دے حالانکہ ایک