خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 181

$1958 181 خطبات محمود جلد نمبر 39۔زمانہ میں مسلمان بڑی سے بڑی لالچ کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔روم کی جنگ پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو تین صحابہ غلطی سے پیچھے رہ گئے۔آپ نے واپس آنے پر اُن تینوں کو مقاطعہ کی سزا دے دی۔ان میں سے ایک صحابی کہتے ہیں کہ جب مقاطعہ لمبا ہو گیا تو میں تنگ آ گیا۔میرا ایک بڑا گہرا دوست تھا اور بھائیوں کی طرح مجھے پیارا تھا۔وہ اپنے باغ میں کام کر رہا تھا کہ میں اس کے پاس پہنچا اور میں نے کہا بھائی ! تم جانتے ہو کہ میں منافق نہیں، میں سچا اور مخلص مسلمان ہوں۔صرف غلطی کی وجہ سے جنگ سے پیچھے رہ گیا تھا۔مگر وہ بولا نہیں۔اس نے آسمان کی کی طرف دیکھا اور کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔وہ کہتے ہیں مجھے اس سے شدید صدمہ پہنچا اور میں باغ سے نکل کر شہر کی طرف چل پڑا۔میں گھر کی طرف جاہی رہا تھا کہ مجھے پیچھے سے ایک شخص نے آواز دی۔میں ٹھہرا تو اُس نے مجھے عرب کے ایک بادشاہ کا خط دیا۔اُس میں لکھا تھا کہ ہم نے سنا ہے کہ محمد ( رسول اللہ ) نے تم پر بڑا ظلم کیا ہے۔تم ہمارے پاس آجاؤ ہم تمہاری بڑی عزت کریں گے۔وہ صحابی کہتے ہیں میں نے پیغامبر کو کہا کہ تم میرے ساتھ چلو۔میں ابھی اس کا جواب دیتا ہوں۔وہ میرے ساتھ ساتھ چلا۔راستہ میں میں نے دیکھا کہ ایک جگہ تنور جل رہا ہے۔میں اُس کے قریب پہنچا اور میں نے وہ خط اُس کے سامنے اس تنور میں ڈال دیا اور پھر میں نے اسے کہا کہ جاؤ اور اپنے بادشاہ سے کہہ دو کہ یہ تمہارے خط کا جواب ہے۔4 تو دیکھو اسے کتنی بڑی لالچ دی گئی تھی مگر اس نے کچھ بھی پروا نہ کی اور بادشاہ کے خط کو آگ میں جھونک دیا مگر آج مسلمان ہر جگہ بھیک مانگتا پھرتا ہے۔اگر اس کے اندر سچا ایمان ہوتا تو وہ نہ امریکہ کی طرف دیکھتا اور نہ روس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا بلکہ خود پیسہ پیسہ جمع کر کے اپنی تمام ضروریات کو خود پورا کرنے کی کوشش کرتا مگر یہ جذ بہ قوم میں اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب اُس کے افراد اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھیں اور موت کا ڈراپنے دل سے نکال دیں۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ مدینہ کے قریب پہنچ کر آپ دو پہر کے وقت آرام فرمانے کے لیے ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے اور صحابہ بھی ادھر اُدھر منتشر ہو گئے۔کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ اب تو مدینہ قریب ہی آ گیا ہے اب کسی دشمن کے حملہ کا کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔اتفاقاً ایک شخص جس کا بھائی کسی جنگ میں مسلمانوں۔