خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 142

142 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 رکھنے والی عورت کو دیکھ کر اُس کی ہتک کرنا نہیں چاہتا۔میں اب بغیر دیکھے ہی اس سے شادی کروں گا۔یہی لوگ تھے جو اسلام کے لیے اپنی جانیں بلا دریغ قربان کرتے چلے جاتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ لیا ہے اور اب ہماری ہر چیز اُن کی ہوگئی ہے۔اُحد کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق غلط فہمی سے یہ مشہور ہو گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں تو مدینہ کی عورتیں پاگل ہو کر اپنے گھروں سے نکلیں اور اُحد کی طرف دوڑ پڑیں۔اُحد مدینہ سے آٹھ نومیل کے فاصلہ پر تھا۔ایک عورت اسی جنون میں دوڑی چلی آ رہی تھی کہ اُسے سامنے سے اسلامی لشکر واپس کو تھا ہوا دکھائی دیا۔وہ ایک صحابی کے پاس پہنچی اور کہنے لگی مجھے بتاؤ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ وہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ اور سلامت دیکھ چکا تھا اور اُس کا دل مطمئن تھا اس لیے بجائے اس کے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اُسے کوئی جواب دیتا اُس نے چاہا کہ اس عورت سے تعلق رکھنے والی جو بات ہے وہ میں اسے بتا دوں۔چنانچہ وہ کہنے لگا بی بی! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا باپ اس جنگ میں مارا گیا ہے۔وہ کہنے لگی میں نے تجھ سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھا، میں تو تجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھ رہی ہوں کہ آپ کا کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگا بی بی! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا خاوند بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اُس نے پھر کہا کہ میں نے تجھ سے اپنے خاوند کے متعلق بھی نہیں پوچھا، میں تو تجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دریافت کر رہی ہوں۔وہ کہنے لگابی بی! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا بھائی بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔وہ کہنے لگی میں نے تجھ سے اپنے بھائی کا حال بھی کب دریافت کیا ہے۔میں نے تو یہ پوچھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خیریت سے ہیں۔اُس نے کہا اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت تو سے ہیں اور آپ زندہ ہیں تو خواہ میرا باپ مارا جائے یا خاوند مارا جائے یا بھائی مارا جائے۔مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔مجھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی ضرورت ہے۔4 پھر وہ آگے دوڑ پڑی اور اُس نے کہا مجھے بتاؤ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں کھڑے ہیں تا کہ میں اپنی کی آنکھوں سے بھی آپ کو دیکھ لوں اور مجھے یقین ہو جائے کہ آپ زندہ اور سلامت ہیں۔جب اُس کی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جگہ تندرست کھڑے دیکھا تو وہ دوڑ کر آپ کے پاس پہنچی۔