خطبات محمود (جلد 39) — Page 141
141 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 میں نے فلاں جگہ شادی کرنے کا ارادہ کیا ہے مگر مجھے معلوم نہیں کہ لڑکی کی شکل کیسی ہے۔میں چاہتا ہو ہوں کہ ایک دفعہ اُسے دیکھ لوں تا کہ میری تسلی ہو جائے۔آپ نے فرمایا بیشک پردے کا حکم نازل ہوا چکا ہے مگر یہ غیر عورت کے لیے ہے۔جس لڑکی کے ساتھ رشتہ طے ہو جائے اور ماں باپ بھی منظور کر لیں اگر اُسے لڑکا دیکھنا چاہے تو ایک دفعہ دیکھ سکتا ہے۔تم اُس کے باپ کے پاس جاؤ اور میری طرف سے کہہ دو کہ وہ تمہیں لڑکی دکھا دے۔اگر رشتہ کا سوال نہ ہو تب تو بیشک پردہ ہوگا لیکن اگر کوئی شخص کسی جگہ رشتہ کرنے پر رضامند ہو جائے اور لڑکی کے ماں باپ بھی راضی ہو جائیں تو تسلی کرنے کے لیے اُسے ایک دفعہ دیکھنا جائز ہے۔وہ گیا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اُسے پہنچا دیا مگر معلوم ہوتا ہے اُس لڑکی کے باپ کے اندرا بھی اسلام پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا۔جب اُس نے کہا کی کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ آیا ہوں اور آپ نے فرمایا ہے کہ جب تمہارا ایک جگہ رشتہ طے ہو گیا ہے تو اب وہ تمہاری منسوبہ ہے اور منسوبہ کو شادی سے پہلے تسلی کے لیے دیکھنا جائز ہے تو باپ کہنے لگا میں ایسا بے غیرت نہیں ہوں کہ تمہیں اپنی لڑکی دکھا دوں۔تمہاری مرضی ہے رشتہ کر دیا نہ کرو۔جس وقت اُس نے یہ بات کہی اُس کی لڑکی پردہ میں بیٹھی ہوئی سب باتیں سُن رہی تھی۔وہ جھٹ اپنا منہ کھول کر سامنے آگئی اور کہنے لگی میں ایسے باپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں جو کہتا ہے کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بھی پروا نہیں۔میں اب تمہارے سامنے آ گئی ہوں تم مجھے دیکھ لو۔مگر وہ نو جوان بھی بڑے ایمان والا تھا۔اس نے جھٹ اپنی آنکھیں نیچی کر لیں اور گردن جھکالی اور کہنے لگا کہ میں تیرے جیسی مومن عورت کی شکل دیکھے بغیر ہی تجھ سے شادی کروں گا۔کی میں نہیں چاہتا کہ جس عورت کے اندر اتنا اخلاص اور ایمان پایا جاتا ہے اُس کی شکل دیکھ کر اُس کی ہتک کروں۔اب میں بغیر دیکھنے کے ہی نکاح کروں گا۔چنانچہ اس نے نکاح کر لیا۔یہ تھا اُن لوگوں کا اخلاص اور یقی اُن لوگوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت۔پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا مگر لڑکی کہتی ہے کہ باپ بیشک مخالفت کرتا رہے میں ایسے باپ کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرنے والا نہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ منسوبہ کی شکل دیکھنی جائز ہے تو میرا باپ کون ہے جو اس میں روک بنے۔میں اب تمہارے سامنے کھڑی ہوں تم مجھے دیکھ لو۔اور اُس نوجوان کا اخلاص دیکھو کہ وہ کہتا ہے میں ایسا ایمان